سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 382 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 382

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۲ تھے۔اس کی تائید میں ایک واقعہ اور حضرت کے اپنے ارشاد کو درج کر دینا ہی کافی ہے۔یہ واقعہ حضرت ڈاکٹر صادق نے بیان کیا ہے۔ایک دن کا ذکر ہے کہ کسی دیوار کے متعلق حضرت ام المومنین کی رائے تھی کہ یوں بنائی جائے اور مولوی عبد الکریم رضی اللہ عنہ کی رائے اس کے خلاف تھی۔چنانچہ مولوی صاحب موصوف نے حضرت اقدس سے عرض کیا۔تو آپ نے فرمایا۔خدا تعالیٰ نے مجھے لڑکوں کی بشارت دی۔اور وہ اس بی بی کے بطن سے پیدا ہوئے۔اس لئے میں اسے شعائر اللہ سے سمجھ کر اس کی خاطر داری رکھتا ہوں۔اور جو وہ کہے مان لیتا ہوں۔“ یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایمان اور تعظیم لامر اللہ وشعائر اللہ کے راز پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔اب میں ان اقتباسات کو دے دیتا ہوں جن کا اوپر ذکر کیا ہے۔وو پہلے میں حضرت خلیفتہ اللہ کی معاشرت کی نسبت کچھ لکھتا ہوں اس لئے کہ سب سے بڑی اور قابل فخر اہلیت کسی شخص کی اس سے ثابت ہوتی ہے کہ اہلِ بیت سے اس کا تعلق اعلیٰ درجہ کا ہو اور اس کا گھر اس کی قوت انتظامی اور اخلاق کی وجہ سے بہشت کا نمونہ ہو جس کی بڑی سے بڑی تعریف یہی ہے کہ وہاں دلوں کی تپش اور جلن اور رنج اور کدورت اور غل اور حسد کے محرکات اور موجبات نہ ہوں گے۔خدا تعالیٰ کی حکیم کتاب میں آیا ہے۔وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء :٢٠) اور اس حکیم کتاب کا عملی نمونہ ہمارے سید ومولا رحمتہ للعالمین (صلی اللہ علیہ وسلم ) فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاهْلِهِ، یعنی تم میں سے افضل اور خیر و برکت سے بھرا ہوا وہی ہے جس کی رفتارا اپنے اہل سے خیر و برکت کی ہے۔عرصہ قریب پندرہ برس کے گذرتا ہے (اب قریباً ۴۲ برس ہوتے ہیں۔عرفانی ) جب سے حضرت نے بار دیگر خدا تعالیٰ کے امر سے معاشرت کے بھاری اور نازک فرض کو اٹھایا ہے۔اس اثنا میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ خانہ جنگی کی آگ مشتعل ہوئی ہو۔