سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 375
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۵ تھے۔یہ تمام واقعات حضور کی کمال شفقت اور محبت پر دلالت کرتے ہیں۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ بہ حیثیت باپ کے اپنی اولاد کے ساتھ اکرِ مُوا أَوْلَادَكُمْ“ کے ماتحت حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ تھا۔اور عام طور پر بچوں کے ساتھ آپ اس خلق عظیم کے مظہر تھے۔بچوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے بچوں کی ہر قسم کی خوشی کی تقریبوں کو آپ مناتے اور ان میں شریک ہوتے۔آمین کے جلسے ہوتے تھے۔اور اس تقریب پر سچی اور حقیقی خوشی کا اظہار ہوتا تھا۔اور نمونہ دکھایا جاتا تھا۔مگر یہ تقریبیں مسنون اور معروف ہوتی تھیں۔آپ یہ کبھی پسند نہ فرماتے تھے۔کہ ان تقریبات پر کسی قسم کا کوئی ایسا فعل ہو جو خلاف شریعت اور خلاف سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہو۔بچوں کے عقیقہ کی تقریب تو ان کے بچپن کے ایسے وقت ہوتی ہے کہ ان کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔البتہ آمین کی تقریب ایسی تھی کہ وہ محسوس کرتے تھے۔اور جانتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ان تقریبوں کی کیفیت اور اس وقت کے جذبات کا اظہار ہر ایک آمین سے ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ ثانی کی آمین کی تقریب کے بعد پھر تمام بچوں کی آمین کی ایک ہی تقریب تھی۔اور ہر دو تقاریب کی آمین شائع شدہ ہے۔حضرت نواب صاحب کے بچوں کی آمین کی بھی تقریب ہوئی تھی۔اور وہ بچے آپ کے سامنے پیش کئے گئے جنہوں نے قرآن مجید ختم کیا تھا حضور بہت مسرور ہوئے اور دعا فرمائی۔اسی طرح صاحبزادہ عبدالحی مرحوم کی آمین اور میاں محمد اسحاق صاحب کی شادی کی تقریب بھی اپنے رنگ میں بہت ہی خوشگوار اور مسرت افزا اتقریبیں تھیں۔غرض حضور بچوں کی خوشیوں کی تقریب میں شریک ہوتے تاکہ ان کی خوشی دو بالا ہو جاوے۔اور ایسی تقریب کا بابرکت ہو جانا تو ظاہر بات ہے۔