سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 373 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 373

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۳ تھے۔تو نہ صرف اسے نوٹ کر لیتے بلکہ اس پر عمل بھی کرتے۔حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی اکثر خوا ہیں آپ بیان فرما دیا کرتے تھے۔اور بعض آپ نے اپنی الہامات کی نوٹ بک میں بھی نقل کی ہیں۔وہ مشہور و معروف رؤیا (جس کا ذکر حضرت خلیفہ ثانی نے ۱۹۱۴ء کے سالانہ جلسہ پر کیا جو برکات خلافت کے صفحہ ۳۴ لغایت ۳۷ پر درج ہے (انوار العلوم جلد ۲ صفحه ۱۸۰ تا ۱۸۳ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن )۔اور جو ۱۸ مارچ ۱۹۰۷ء کی ہے۔سالانہ جلسہ پر حضرت نے دکھائی تھی۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نوٹ بک میں درج ہے۔جیسا کہ سب کو معلوم ہے یہ رویا جماعت کے اس تفرقہ اور فتنہ خلافت کے متعلق ہے جو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوا۔جس کو میں ہمیشہ خلافت کے ساتھ غدر سے تعبیر کیا کرتا ہوں۔میں نے خود ہی اس رؤیا کو شمائل کی جلد اول صفحه ۶۲ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد هذا حصہ اول صفحہ ۶۷ تا ۶۸ ) پر درج کر دیا ہے۔اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ایک رویا جو دیوار کے متعلق تھی۔حضور نے نوٹ فرمائی۔غرض اکثر رویا بچوں کی نوٹ کرلیا کرتے تھے۔اور بعض کی ان میں سے اشاعت بھی ہو جاتی تھی۔غرض آپ بچوں کی رؤیا کو حض لغو اور بے حقیقت قرار دے کر نظر انداز نہ فرما دیا کرتے تھے۔یہ ایک مشہور اور شائع شدہ واقعہ ہے کہ جب آپ ۱۹۰۵ء کے زلزلہ عظیمہ کے بعد باغ میں تشریف لے گئے تو مکرمی ڈاکٹر صادق صاحب کے بڑے لڑکے منظور صادق نے ایک رؤیا دیکھی۔کہ بہت سے بکرے ذبح کئے جارہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خواب کو سن کر اپنے خاندان کے ہر فرد کی طرف سے ایک ایک بکرا ذبح کیا اور آپ کی اتباع میں ہر شخص نے جو مقدرت رکھتا تھا ہر مبر خاندان کی طرف سے ایک ایک یا کل خاندان کی طرف سے ایک ہی بکرا ذبح کیا۔اور اس قسم کی قربانیوں سے خون کی ایک نالی جاری ہو گئی تھی۔کم از کم ایک سو بکرا ذبح ہوا ہوگا۔عزیز مکرم مفتی منظور صادق کی رؤیا کے مطابق 9 اپریل ۱۹۰۵ء کو جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تعمیل کے لئے ارشاد فرمایا تو اسی سلسلہ میں یہ بھی فرمایا ” مومن کبھی رویا دیکھتا ہے۔اور کبھی اس کی خاطر کسی اور کو دکھاتا ہے۔ہم نے اس