سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 13 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 13

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حصّہ اوّل آپ کے ساتھ حفاظت معین کا ایک وعدہ تھا جس کے ماتحت آپ کی چشمانِ مبارک آخر وقت تک بیماری اور تکان سے محفوظ رہیں البتہ پہلی رات کا ہلال آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ناک حضرت اقدس کی نہایت خوبصورت اور بلند بالا تھی ، پتلی ، سیدھی ، اونچی اور موزوں نہ پھیلی ہوئی تھی نہ موٹی۔کان آنحضور کے متوسط یا متوسط سے ذرا بڑے۔نہ باہر کو بہت بڑھے ہوئے نہ بالکل سر کے ساتھ لگے ہوئے۔قلمی آم کی قاش کی طرح اوپر سے بڑے نیچے سے چھوٹے۔قوت شنوائی آپ کی آخر وقت تک عمدہ اور خدا کے فضل سے برقرار رہی۔رخسار مبارک آپ کے نہ پچکے ہوئے اندر کو تھے نہ اتنے موٹے کہ باہر کو نکل آویں۔نہ رخساروں کی ہڈیاں اُبھری ہوئی تھیں۔بھنویں آپ کی الگ الگ تھیں۔پیوستہ ابرونہ تھے۔پیشانی اور سر مبارک پیشانی مبارک آپ کی سیدھی اور بلند اور چوڑی تھی اور نہایت درجہ کی فراست اور ذہانت آپ کے جبیں سے ٹپکتی تھی۔علم قیافہ کے مطابق ایسی پیشانی بہترین نمونہ اعلیٰ صفات اور اخلاق کا ہے۔یعنی جو سیدھی ہو نہ آگے کو نکلی ہوئی نہ پیچھے کو دھسی ہوئی اور بلند ہو یعنی اونچی اور کشادہ ہو اور چوڑی ہو۔بعض پیشانیاں گواونچی ہوں مگر چوڑ ان ماتھے کی تنگ ہوتی ہے، آپ میں یہ تینوں خوبیاں جمع تھیں۔اور پھر یہ خوبی کہ چھیں جیں بہت ہی کم پڑتی تھی۔سر آپ کا بڑا تھا، اور علم قیافہ کی رو سے ہر سمت سے پورا تھا۔یعنی لمبا بھی تھا ، چوڑا بھی تھا، اونچا بھی اور سطح اوپر کی اکثر حصہ ہموار اور پیچھے سے بھی گولائی درست تھی۔سرحدی لوگوں کے سروں کی طرح پیچھے سے پچکا ہوا نہ تھا۔آپ کی کنپٹی کشادہ تھی اور آپ کی کمال عقل پر دلالت کرتی تھی۔لب مبارک لب مبارک پتلے نہ تھے مگر تاہم ایسے موٹے بھی نہ تھے کہ برے لگیں۔دہانہ آپ کا متوسط تھا۔اور جب بات نہ کرتے ہوں تو منہ کھلا نہ رہتا تھا۔جیسے بعض آدمیوں کی عادت ہے۔بعض اوقات مجلس میں جب خاموش بیٹھے ہوں تو آپ عمامہ کے شملہ سے دہانِ مبارک ڈھک لیا کرتے تھے۔