سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 363
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۳ جیسے کسی بڑے ذی علم اور عمر رسیدہ انسان کے سوال کو مکر می ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جو حضرت قبلہ نانا جان میر ناصر نواب صاحب کے صاحب زادے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ حضرت ام المومنین کے بھائی ہونے کی وجہ سے رشتہ اخوت رکھتے ہیں۔ان کی ذاتی روایت ہے حضرت صاحب زادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی تالیف سیرت المہدی میں اس طرح لکھی ہے۔” جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں دعویٰ مسیحیت شائع کیا تو میں ان دنوں چھوٹا بچہ تھا اور شاید تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔مجھے اس دعوی سے کچھ اطلاع نہیں تھی۔ایک دن میں مدرسہ گیا تو بعض لڑکوں نے مجھے کہا کہ وہ جو قادیان کے مرزا صاحب تمہارے گھر میں ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں اور یہ کہ آنے والے مسیح وہ خود ہیں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ میں نے اُن کی تردید کی کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے حضرت عیسی تو زندہ ہیں اور آسمان سے نازل ہوں گے۔خیر جب میں گھر آیا تو حضرت صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے آپ سے مخاطب ہو کر کہا کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ آپ مسیح ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ میرا یہ سوال سن کر حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ اُٹھے اور کمرے کے اندر الماری سے ایک نسخہ ”فتح اسلام“ (جو آپ کی جدید تصنیف تھی ) لا کر مجھے دے دیا۔اور فرمایا۔اسے پڑھو۔ڈاکٹر صاحب فرماتے تھے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی دلیل ہے کہ آپ نے ایک چھوٹے بچے کے معمولی سوال پر اس قدر سنجیدگی سے توجہ فرمائی ورنہ یونہی کوئی بات کہہ کر ٹال دیتے۔“ (سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۲۶ مطبوعه ۲۰۰۸ء) سبق یاد نہ کرنے پر بچوں پر خفا نہ ہوتے میں نے اوپر لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچوں کو مارنے کے سخت خلاف تھے تعلیمی معاملات میں مارنے والے استادوں کو پسند نہ فرماتے۔حضور نے اگر چہ خود با قاعدہ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دی۔لیکن ابتدائی ایام میں جبکہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے آپ مامور ہوکر مبعوث نہ ہوئے تھے۔خان