سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 12 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 12

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضر اوّل آپ نائی سے لگوایا کرتے تھے۔ریش مبارک کی طرح موچھوں کے بال بھی مضبوط اور اچھے موٹے اور چمکدار تھے۔آپ لہیں کتر واتے تھے۔مگر نہ اتنی کہ جو وہابیوں کی طرح مونڈی ہوئی معلوم ہوں نہ اتنی لمبی کہ ہونٹ کے کنارے سے نیچی ہوں۔جسم پر آپ کے بال صرف سامنے کی طرف تھے۔پشت پر نہ تھے اور بعض اوقات سینہ اور پیٹ کے بال آپ مونڈ دیا کرتے تھے یا کتروا دیتے تھے۔پنڈلیوں پر بہت کم بال تھے اور جو تھے وہ نرم اور چھوٹے۔اس طرح ہاتھوں کے بھی۔چہرہ مبارک آپ کا چہرہ کتابی یعنی معتدل لمبا تھا اور حالانکہ عمر شریف ستر اور اسی کے درمیان تھی پھر بھی جھریوں کا نام ونشان نہ تھا۔اور نہ متفکر اور غصہ ور طبیعت والوں کی طرح پیشانی پر شکن کے نشانات نمایاں تھے۔رنج فکر ہتر در یاغم کے آثار چہرہ پر دیکھنے کی بجائے زیارت کنندہ اکثر تبسم اور خوشی کے آثار ہی دیکھتا تھا۔چشم آپ کی آنکھوں کی سیاہی ، سیاہی مائل شربتی رنگ کی تھی اور آنکھیں بڑی بڑی تھیں مگر پپوٹے اس وضع کے تھے کہ سوائے اس وقت کے جب آپ ان کو خاص طور پر کھولیں ہمیشہ قدرتی غض بصر کے رنگ میں رہتی تھیں بلکہ جب مخاطب ہو کر بھی کلام فرماتے تھے تو آنکھیں نیچی ہی رہتی تھیں گھر میں بھی بیٹھتے تو اکثر آپ کو یہ نہ معلوم ہوتا کہ اس مکان میں اور کون کون بیٹھا ہے۔اس جگہ یہ بات بھی بیان کے قابل ہے کہ آپ نے کبھی عینک نہیں لگائی اور آپ کی آنکھیں کام کرنے سے کبھی نہ تھکتی تھیں۔خدا تعالیٰ کا لے حضرت اقدس کو مرض ذیا بیطس کی وجہ سے آنکھوں کا بہت اندیشہ تھا کیونکہ اس مرض کے غلبہ سے آنکھ کی بینائی کم ہو جاتی ہے اس اندیشہ کی وجہ سے دعا کی تو الہام ہو نَزَلَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى ثَلَثِ الْعَيْنِ وَ عَلَى الْأَخْرَيَيْنِ یعنی رحمت تین اعضا پر نازل ہوگی۔ایک تو آنکھ اور دو اور عضو۔چنانچہ یہ الہام آخر وقت تک پورا رہا۔(عرفانی)