سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 342
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۴۲ پھر آپ منشی غلام محمد صاحب سے کام لینے لگے۔منشی غلام محمد صاحب عجیب قسم کے نخرے کیا کرتے تھے۔اور مختلف طریقوں سے اپنی مقررہ تنخواہ سے زیادہ وصول کیا کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان باتوں کو سمجھتے تھے۔مگر ہنس کر خاموش ہو رہتے۔ایک روز آپ مسجد میں ظہر کی نماز کے لئے تشریف لائے۔اور نماز کے بعد بیٹھ گئے۔آپ کا معمول عام طور پر یہی تھا کہ فرض پڑھ کر تشریف لے جاتے تھے۔مگر کبھی کبھی بیٹھ بھی جاتے۔آپ نے ہنس کر اور خوب ہنس کر فر مایا۔کہ آج عجیب واقعہ ہوا۔میں اندر لکھ رہا تھا کہ منشی غلام محمد صاحب کا بیٹا روتا اور چلاتا ہوا بھا گتا آیا۔اور اس کے پیچھے منشی غلام محمد صاحب جو تا ہاتھ میں لئے ہوئے شور مچاتے آئے کہ باہر نکل میں تم کو مار ہی ڈالوں گا۔حضرت اقدس یہ شور سن کر باہر نکلے اور منشی صاحب سے پوچھا کہ کیا ہوا۔وہ یہی کہتے جاتے تھے کہ میں نے اس کو مار ہی دینا ہے آخر حضرت کے اصرار پر بتایا کہ حضور میں نے اس کو نیا جوتا لے کر دیا تھا اس نے گم کر دیا ہے۔اب میں اس کو مار ہی دوں گا۔حضرت اس کو سن کر ہنس پڑے اور منشی صاحب کو کہا کہ اس پر اتنا شور مچانے کی کیا ضرورت ہے۔اور مارتے کیوں ہو۔بات تو صرف جوتے کی ہے۔میں ہی نیا جو تا خرید دوں گا۔‘اس پر منشی غلام محمد صاحب خوش ہو کر چلے گئے۔اور بیٹے کو کہا کہ اچھا اب آجا حضرت صاحب جو تا خرید کر دیں گے۔حضرت اقدس اس واقعہ کو بیان کرتے اور ہنستے تھے۔کہ دیکھو یہ اس نے کیا کیا تنخواہ کے علاوہ اس کی خوراک وغیرہ کا خرچ بھی آپ دیتے۔اور اس پر کھانا بھی وہ حضرت ہی کے ہاں سے لے لیتا۔اور بعض ضروری پار چات بستر وغیرہ یا سردی کا موسم ہو تو رضائی اور گرم کوٹ بھی لے لیتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اُس کی ان تمام باتوں کو سمجھتے۔مگر کبھی نہ تو ناراض ہوتے اور نہ اس کو الگ کرتے۔اس کی ناز برداریاں کرتے ہوئے اُسے کام دیتے رہتے۔اس کی یہ وجہ نہ تھی کہ اور کاتب نہ ملتے تھے۔مگر آپ عہد وفا کو قائم رکھتے اور خادموں سے حسن سلوک کے عملی نمونہ جات سے جماعت کی تربیت فرمارہے تھے۔یہ حسن سلوک کسی ایک خادم کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔بلکہ سب کے ساتھ آپ کے برتاؤ یکساں تھے۔