سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 332
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۳۲ تھے۔اور سُبْحَانَ اللهُ سُبْحَانَ الله !! کہہ کر پھر سو جاتے تھے اور آپ کے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت ہلتی رہتی تھی جیسے بچے انگلیوں کو حرکت دیا کرتے ہیں۔پھر آپ جاگ گئے اور فرمایا سو جاؤ۔پھر میں بحکم الآمُرُ فَوقَ الْادَبِ آپ کے پیروں کی طرف لیٹ گیا اور مصلی جو میں ساتھ لے گیا تھا وہ سرہانے سر کے نیچے رکھ لیا۔پچھلی رات کو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام جاگے اور مجھے خبر نہیں دی آپ قرآن شریف پڑھ رہے تھے اور آہستہ آہستہ باریک آواز سے کہ یہ ( یعنی عاجز راقم الحروف) جاگ نہ اٹھے۔آخر حسب معمول میری آنکھ کھل گئی اور آپ کا قرآن شریف پڑھنا اور آہستہ آہستہ پڑھنا اور ٹہلناد یکھا۔فرمایا۔صاحبزادہ صاحب جاگ اٹھے۔میں نے عرض کیا کہ حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٌ جَاكَ اٹھا۔فرمایا۔صاحبزادہ صاحب وضو کے واسطے پانی لاؤں۔میں نے عرض کیا حضرت صَلَّی اللهُ عَلَيْكَ وَعَلَى مُحَمَّدٌ میں تو اس لئے حاضر خدمت ہوا تھا کہ میں خدمت کروں آپ میری خدمت کے لئے تیار ہو گئے۔فرمایا۔کیا مضائقہ ہے پس میں جلدی سے مسجد کے نیچے اتر گیا اور ڈھاب میں وضو کیا اور جلد آ گیا اور آپ بھی نوافل پڑھتے رہے اور میں بھی نوافل میں مصروف ہو گیا۔پھر تھوڑی دیر میں اذان کا وقت آگیا۔فرمایا۔اذان کہو۔میں نے اذان کہی اور لوگ آنے شروع ہو گئے۔اب میں وہ واقعہ لکھتا ہوں۔جس کا وعدہ اوپر کر آیا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ میرے لئے جو چار پائی حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے دے رکھی تھی جب مہمان آتے تو میری چار پائی پر بعض صاحب لیٹ جاتے۔اور میں مصلی زمین پر بچھا کر لیٹ جاتا۔اور جو میں بستر چار پائی پر بچھا لیتا۔تو بعض مہمان اسی چار پائی بستر شدہ پر لیٹ جاتے تو میرے دل میں ذرہ بھر بھی رنج یا ملال نہ ہوتا۔اور میں سمجھتا کہ یہ مہمان ہیں اور ہم یہاں کے رہنے والے ہیں۔اور بعض صاحب میرا بستر چار پائی کے نیچے زمین پر پھینک دیتے اور آپ اپنا بستر بھیجا کر لیٹ جاتے۔ایک دفعہ ایسا ہی ہوا حضرت اقدس علیہ السلام کو ایک عورت نے خبر دی کہ حضرت