سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 325
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ مقدمہ جہلم کا ایک واقعہ جہلم میں کرم دین ساکن بھیں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام حکیم فضل دین مرحوم اور خاکسار عرفانی پر ایک مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی کا دائر کر رکھا تھا۔جو پہلی ہی پیشی پر خارج ہو گیا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم اس مقدمہ کی جواب دہی کے لئے تشریف لے گئے۔تو راستہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق عجیب و غریب نشانات ظاہر فرمائے۔گجرات کے سٹیشن پر چوہدری نواب خان صاحب تحصیل دار نے کھانا پیش کیا۔چونکہ اس قدر وقت نہ تھا کہ حضرت اقدس اور آپ کے خدام وہاں ٹھہر کر کھانا کھا سکتے۔اس لئے چوہدری صاحب نے کھانا اور برتن ساتھ ہی دے دیئے۔احباب نے ریل میں کھا لیا۔چوہدری صاحب ایک خاص قسم کی فرنی حضرت اقدس کے لئے تیار کر کے لائے تھے۔اور وہ پیالہ بھی الگ رکھا ہوا تھا۔جب سب کھا چکے تو حضرت نے مفتی فضل الرحمان صاحب سے دریافت کیا کہ میاں کھانا تقسیم ہو گیا۔اور سب نے کھالیا۔انہوں نے عرض کیا ہاں حضور تقسیم ہو گیا۔پھر آپ نے دریافت فرمایا کیا تم نے بھی کھا لیا۔مفتی صاحب نے جواب دیا کہ حضور اب کھاؤں گا۔آپ نے وہ فرنی کا پیالہ ان کے حوالہ کیا اور کہا کہ آپ یہ کھائیں۔یہ واقعہ حضرت کے ایثار اور احسانات کے ذیل میں بھی آسکتا ہے۔مگر میں نے اسے بے تکلفی اور سادگی کے ضمن میں دکھایا ہے۔کہ کس طرح حضور اپنے خدام کے ساتھ بے تکلفی کا برتاؤ کرتے تھے۔مفتی صاحب کا ایک اور واقعہ جو حضرت مسیح موعود کا معجزہ ہے جن ایام میں حضور گورداسپور مقدمات کی پیروی کے لئے قیام پذیر تھے ایک روز مولوی یارمحمد صاحب قادیان سے گورداسپور پہنچے۔اور انہوں نے حضرت ام المومنین کی علالت کی خبر دی۔مفتی فضل الرحمان صاحب کے پاس ایک گھوڑا تھا۔اور وہ اپنا گھوڑا لے کر گورداسپور رہا کرتے تھے۔تا کہ اگر ضروری کام پیش آجائے تو وہ فور أسوار ہو کر روانہ ہوں۔وہاں کے قیام میں دودھ اور برف کا انتظام بھی ان کے سپر د تھا۔غرض مولوی یار محمد صاحب یہ خبر لے کر پہنچے۔مفتی فضل الرحمان صاحب کہتے ہیں