سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 317 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 317

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مخدوم الملت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔۳۱۷ ”حضرت مکان اور لباس کی آرائش اور زینت سے بالکل غافل اور بے پروا ہیں۔خدا کے فضل و کرم سے حضور کا یہ پایہ اور منزلت ہے کہ اگر چاہیں تو آپ کے مکان کی اینٹیں سنگ مرمر کی ہوسکتی ہیں۔اور آپ کے پا انداز سندس واطلس کے بن سکتے ہیں۔مگر بیٹھنے کا مکان ایسا معمولی ہے کہ زمانہ کی عرفی نفاست اور صفائی کا جاں دادہ تو ایک دم کے لئے وہاں بیٹھنا پسند نہ کرے۔میں نے بار ہا وہ تخت لکڑی کا دیکھا ہے جس پر آپ گرمیوں میں باہر بیٹھتے ہیں اُس پر مٹی پڑی ہوئی ہے اور میلا ہے جب بھی آپ نے نہیں پوچھا اور جو کسی نے خدا کا خوف کر کے مٹی جھاڑ دی ہے جب بھی التفات نہیں کیا کہ آج کیسا صاف اور پاک ہے۔غرض اپنے کام میں اس قدر استغراق ہے کہ ان مادی باتوں کی مطلق پروا نہیں۔جب مہمانوں کی ضرورت کے لئے مکان بنوانے کی ضرورت پیش آئی ہے بار بار یہی تاکید فرمائی ہے کہ اینٹوں اور پتھروں پر پیسہ خرچ کرنا عبث ہے اتنا ہی کام کرو جو چند روز بسر کرنے کی گنجائش ہو جائے۔نجار تیر بندیاں اور تختے رندہ سے صاف کر رہا تھا روک دیا اور فرمایا یہ محض تکلف ہے۔اور ناحق کی دیر لگانا ہے مختصر کام کرو۔( مصنفہ حضرت مولاناعبدالکریم سیالکوٹی صفحہ ۳۸،۳۷) لباس کا یہ حال ہے کہ پشمینہ کی بڑی قیمتی چادر ہے۔جس کی سنبھال اور پر تال میں ایک دنیا دار کیا کیا غور و پرداخت کرتا اور وقت کا بہت سا حصہ بے رحمی سے اس کی پرستش میں صرف کر دیتا ہے۔حضرت اُسے اس طرح ( یہ اصطلاح فیشن پرستان۔عرفانی) خوار کرتے ہیں۔کہ گویا ایک فضول کپڑا ہے۔واسکٹ کے بٹن نیچے کے ہول میں بند کرنے سے آخر رفتہ رفتہ سبھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ایک دن تعجب سے فرمانے لگے کہ بٹن کا لگانا بھی تو آسان کام نہیں ہمارے تو سارے بٹن جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔“ آپ کا یہ طریق اور طرز عمل صرف اس لئے تھا کہ آپ اپنے وقت کو ان کاموں میں لگانا غیر ضروری سمجھتے تھے۔