سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 315 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 315

برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۵ مسجد مبارک میں آپ کی نشت کی کوئی خاص وضع نہیں ہوتی۔ایک اجنبی آدمی آپ کو کسی خاص امتیاز کی معرفت پہچان نہیں سکتا۔آپ ہمیشہ دائیں صف میں ایک کونے میں مسجد کے اس طرح مجتمع ہو کر بیٹھتے ہیں جیسے کوئی فکر کے دریا میں خوب سمٹ کر تیرتا ہے۔میں جو اکثر محراب میں بیٹھتا ہوں اور اس لئے داخلی دروازہ کے عین محاذ میں ہوتا ہوں بسا اوقات ایک اجنبی جو مارے شوق کے سرزدہ اندر داخل ہوا ہے۔تو سیدھا میری طرف ہی آیا ہے اور پھر خود ہی اپنی غلطی پر متنبہ ہوا ہے یا حاضرین میں سے کسی نے اُسے حقدار کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔آپ کی مجلس میں احتشام اور وقار اور آزادی اور بے تکلفی دونوں ایک ہی وقت میں جمع رہتے ہیں۔ہر ایک خادم ایسا یقین کرتا ہے کہ آپ کو مخصوصا مجھ سے ہی پیار ہے۔جو جو کچھ چاہتا ہے بے تکلفی سے عرض کر لیتا ہے۔گھنٹوں کوئی اپنی داستان شروع رکھے اور وہ کیسی ہی بے سروپا کیوں نہ ہو۔آپ پوری توجہ سے سنے جاتے ہیں۔بسا اوقات حاضرین اپنی بساط قلب اور وسعت حوصلہ کے موافق سنتے سنتے اُکتا گئے ہیں۔انگڑائیاں اور جمائیاں لینے لگ گئے ہیں مگر حضرت کی کسی حرکت نے ایک لحظہ کے لئے بھی کوئی ملال کا نشان ظاہر نہیں کیا۔آپ کی مجلس کا یہ رنگ نہیں کہ آپ سرنگوں اور متفکر بیٹھے ہوں۔اور حاضرین سامنے حلقہ کئے یوں بیٹھے ہوں جیسے دیواروں کی تصویریں ہیں۔بلکہ وقت کے مناسب آپ تقریر کرتے ہیں۔اور کبھی کبھی مذاہب باطلہ کی تردید میں بڑے بڑے زور شور سے تقریر فرماتے ہیں۔گویا اُس وقت آپ ایک عظیم الشان لشکر پر حملہ کر رہے ہیں۔اور ایک اجنبی ایسا خیال کرتا ہے کہ ایک جنگ ہورہی ہے۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحه ۴۱،۴۰) یہ تو آپ کی مجلس کی ایک بے تکلفانہ شان کا نقشہ ہے۔آپ کے تمام حالات اور معمولات میں سادگی اور بے تکلفی جلوہ گر تھی۔دنیا کے تکلفات اور نمائش اور تصنع آپ میں پایا نہ جاتا تھا۔