سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 285
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۵ ضمن میں ان اموال کی بھی تفصیل ہوتی ہے جو اس مقصد کے لئے استعمال میں آنے چاہئیں۔یعنی وہ طیب ہوں جو کسب حلال سے پیدا کئے گئے ہوں اور پھر وہ رڈی اور ناقص اشیاء نہ ہوں جو کسی وجہ سے اپنے استعمال میں نہ آسکتی ہوں اور مفت کرم داشتن کا مصداق ہوتی ہوں۔غرض جو دو عطا کے متعلق ان اجزا کو مد نظر رکھ کر جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کو دیکھتے ہیں اور ان واقعات اور حالات پر نظر کرتے ہیں جو ہمارے سامنے پیش آئے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس خلق عظیم سے حصہ وافر دیئے گئے تھے اور یہ طرز عمل آپ کی زندگی میں اس وقت سے پایا جاتا ہے جب سے آپ نے ہوش سنبھالا تھا۔یہ نہیں کہ مامور ہو جانے کے بعد آپ سے اس قسم کے اخلاق کا صدور کسی تکلف سے ہوتا تھا بلکہ آپ کی طبیعت کا ایک جز و تھا۔اس قسم کے اخلاق بعض وقت بالکل مخفی ہوتے ہیں اور بعض اوقات ایسے طور پر بھی ان کا صدور قدرتی طور پر ہو جاتا تھا کہ دوسروں کو علم ہو جاوے۔آپ کا عام رجحان اسی طرف تھا کہ مخفی رہے۔چنانچہ ابتدائی زندگی کے واقعات جودوسخا عموما مخفی رہتے تھے اس لئے کہ آپ ایک گوشہ گزین تھے اور مخفی طور پر ( جیسا کہ میں حیات احمد میں ذکر کر چکا ہوں) آپ بعض لوگوں سے اس وقت کے حسب حال سلوک کیا کرتے تھے لیکن جب خدا تعالیٰ نے آپ کو پبلک میں نکالا اور لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے ہونے لگی اور آپ کے حالات پبلک ہونے لگے تو ان واقعات کے دیکھنے والے اور بیان کرنے والے بھی پیدا ہو گئے۔اب میں واقعات کو پیش کر کے آپ کی سیرت کے اس پہلو کو دکھانے کی خدا کے فضل اور رحم سے کوشش کرتا ہوں۔وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ آپ سائل کو رد نہ کرتے سائل کو آپ کبھی بھی رد نہ کرتے تھے آپ کی زندگی اَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرُ کی ایک عملی تفسیر تھی۔حضرت مولا نا عبدالکریم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن ایسا ہوا کہ نماز عصر کے بعد آپ معمولا اٹھے اور مسجد کی کھڑکی میں اندر