سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 284
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۴ غرض ہے کہ وہ ضروت کے وقت صرف نہ کیا جاوے تو یہ بخل ہو گا۔بے ضرورت صرف کیا جائے تو یہ اسراف ہے اس میں تھوڑے یا بہت کا سوال نہیں ہے ضرورت پر ایک لاکھ خرچ کر دینا اسراف میں داخل نہیں بلا ضرورت ایک پائی خرچ کرنا بھی اسراف ہو جاتا ہے۔پھر سخاوت کے بھی مدارج ہیں اور اس کے کچھ لوازم اور اصول ہیں جب تک وہ ان کے ساتھ نہ ہو اس کی حقیقت کچھ نہیں۔عمل صالح کے دوا جزاء اسلام جو روح انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے وہ مخلص فی الدین ہونے کی روح ہے اور یہی وجہ ہے کہ کوئی عمل عمل صالح نہیں کہلا تا جب تک اس میں دو باتیں نہ ہوں اوّل اخلاص دوم صواب۔اخلاص سے مراد یہ ہے کہ وہ محض خدا تعالیٰ کی رضا اور خدا تعالیٰ کے ارشاد و ہدایت کے موافق ہو اور صواب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کے موافق ہوا گر یہ دونوں باتیں اس میں نہ پائی جاویں تو خواہ بظاہر وہ کتنا ہی نیک عمل نظر آتا ہو مگر اس میں نمو کی قوت نہیں وہ ایک مردہ چیز ہے۔مثلاً نماز کیسی اعلیٰ درجہ کی چیز ہے۔مومن کا معراج اور صعود الی اللہ کا ذریعہ ہے لیکن جب وہ ریا کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو اس پر خدا تعالیٰ نے خود ہلاکت اور لعنت کا اطلاق فرمایا۔قتل بجائے خود کیسی مکروہ اور خوفناک چیز ہے لیکن جب خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کی رضا کے لئے کوئی قتل کر دیتا ہے تو وہ پیارا فعل ہو جاتا ہے اسی طرح ہر عمل کے لئے یہ دونوں شرائط ضروری ہیں۔جو دوسخا کے ساتھ بھی سب سے اوّل یہ ضروری ہے کہ وہ اخلاص اور صواب سے ہو۔یہ تو اس کے اجزائے اعظم ہیں۔سخاوت کے اجزائے خیر اس کے ضمن میں اس کے اور بھی چھوٹے چھوٹے اجزا ء ضرور یہ ہیں مثلاً (۱) دے کر احسان نہ جتلانا۔سائل اگر اصرار کرتا جاوے تو نرمی سے جواب دینا اور کسی مرحلہ پر بھی اس کو جھڑ کنا نہیں۔سائل کو خالی ہاتھ حتی الوسع نہ پھیرنا۔اس کی ظاہری حالت کو دیکھ کر اس پر بد گمانی نہ کرنا۔پھر اسی کے