سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 4
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا موعود علیہ السلام حصّہ اوّل کہ کوئی شخص منکی لگا کر آپ کی طرف نہ دیکھ سکتا تھا۔دلبری اور رعنائی کے وہ لوازم جو ایک خوبصورت اور وجیہ چہرہ پر نمایاں ہونے چاہئیں وہ کامل صفائی کے ساتھ درخشاں تھے۔بہر حال اگر چہ آپ کے چہرہ کو پورے طور پر کامل غور کے ساتھ دیکھنے کا اتفاق کم ہوتا تھا لیکن چونکہ شوق بار بار دیکھنے والے کی آنکھ کو اٹھا دیتا تھا اس لئے آپ کے حلیہ مبارک کو لکھنے والا نہ صرف اس وجہ سے بلکہ اس پاک رشتہ کی وجہ سے جو اس کو حضرت مسیح موعود کے ساتھ ہے یعنی آپ حضرت ام المومنین کے بھائی ہیں بہت موقع ملا ہے۔پس میں اسے نہایت صحیح اور درست یقین کرتا ہوں اور دلائل اور قرائن کے لحاظ سے نہیں بلکہ میں خود چوبیس برس تک متواتر اس چہرہ مبارک کو دیکھتا رہا اس کا ایک گواہ ہوں۔اور نہ اس سے بہتر بیان کرسکتا ہوں۔لہذا انہیں کے الفاظ میں درج کرتا ہوں وِ بِاللهِ التَّوْفِيقِ۔حلیہ مبارک کو یا درکھنا ضروری ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ کو یا درکھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ کو خود بھی بیان فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے لمیہ کوحلیہ ماثور قرار دیا ہے۔اور قصیدہ الہامیہ میں صاف فرمایا ہے۔موعودم و حلية ماثور آمدم حیف است گر بدیده نه بینند منظرم رنگ چوگندم است و بموفرق بین است زاں ساں کہ آمد است در اخبار سرورم سید جدا کند ز مسیحائے احمرم این مقدمم نہ جائے شکوک است و التباس اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حلیہ مبارک ایک ماثور حلیہ ہے اور آنحضرت علیہ نے چونکہ مہدی اور مسیح ایک شخص کی دو شانیں بیان فرمائی ہیں اور اس کی آمد اپنی آمد اور بعثت ثانی مِنْ وَجْهِ قرار دی ہے اس لئے بھی بہت ضروری ہے کہ آپ کے حلیہ مبارک کو ہم یا درکھیں کیونکہ یہ حلیہ مسیح ناصری علیہ السلام سے ممتاز اور جدا ہے۔اور آپ کے حلیہ کا صحیح ناصری علیہ السلام کے حلیہ سے الگ ہونا آپ کی صداقت کی ایک دلیل ہے اور یہ قرینہ ہے اس بات کا کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت سے ہوگا۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود نے اس دلیل کو پیش کیا ہے۔