سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 259
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۹ غصہ اور غیرت دینی غیرت دینی غصہ اور غیرت دینی دو جدا جدا چیزیں ہیں۔بعض لوگ ان میں فرق نہ کرنے کی وجہ سے غلطی کھاتے ہیں اور وہ صحیح اندازہ حسن اخلاق کا نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہاں ایک طرف غصہ کے اس ناپاک جذبہ سے پاک تھے جو انسان میں نخوت و تکبر اور انانیت کے جراثیم پیدا کرتا ہے۔وہاں آپ کی فطرت میں غیرت دینی کا اس قد رز بر دست جذ بہ تھا کہ آپ ایسے موقع پر ہر قسم کے تعلقات کو قربان کر دینے کو تیار ہوتے تھے اور محبت اور نرمی کا کوئی اثر اس وقت دیکھا نہیں جاسکتا تھا۔آپ کبھی کسی شخص پر اپنے ذاتی کام اور ذاتی نقصان کی وجہ سے ناراض نہیں ہوئے اور کوئی ایسی مثال پائی نہیں جاتی لیکن جب کوئی مقابلہ دین کا پیش آجاوے تو آپ اس موقع پر کبھی اس کو نظر انداز نہ کرتے تھے اور اس معاملہ میں وہ کبھی کسی کی پروا نہ کرتے تھے خواہ وہ کتنا ہی عزیز اور رشتہ داری کے تعلقات رکھنے والا کیوں نہ ہو۔یہ ناممکن تھا کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یا قرآن مجید کے خلاف کوئی بات سن سکیں۔اس معاملہ میں ان لوگوں کو آپ مستثنیٰ کرتے تھے جو اسلام کے پہلے سے مخالف ہیں جیسے آریہ یا عیسائی وغیرہ اُن کو اعتراض کا موقع دیتے اور اُس کا جواب دیتے اس صورت میں آپ کی غیرت دینی کا اقتضا یہ ہوتا تھا کہ کوئی ایسا اعتراض بلا جواب نہ چھوڑتے تھے اور مختلف طریقوں سے اس کا جواب دیتے تھے لیکن اگر کوئی مسلمان کہلا کر کبھی ایسی بات کہہ دیتا یا کوئی ایسا فعل کرتا جس سے کسی نہ کسی پہلو سے قرآن مجید یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر یا ہتک ہوتی ہو تو آپ اس کو برداشت نہیں کرتے تھے۔اور باوجود اس کے کہ آپ کسی پر غصہ ہونا نہ جانتے تھے شدید رنج کا اظہار کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کو جو محبت اور عشق تھا اس کی نظیر نہیں ملتی