سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 251 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 251

برت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۱ وقت چونکہ تنگ ہور ہا تھا اس لئے میں نے عرض کیا کہ حضور مجھے بٹالہ میں اپنی لڑکی سے ملنا ہے اور وقت بہت کم ہوتا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم اس یکہ پر سوار ہو کر آگے چلو اور اپنا کام کر کے پھر مجھے راستہ میں آملنا۔میں نے عرض کیا حضور یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں تو یکہ پر سوار ہو کر چلا جاؤں اور حضور کو اکیلا چھوڑ جاؤں۔اور حضور پیدل چلیں۔آپ نے فرمایا اس میں کوئی ہرج نہیں تم یکہ پر سوار ہو جاؤ۔پھر بھی میں نے سوار ہونے کی جرات نہ کی اور سوار نہ ہونے پر اصرار کرتا رہا۔حضور نے فرمایا۔الا مُرُ فَوقَ الْادَبِ۔تم اس کو ہمارا حکم سمجھو اور فور أسوار ہو جاؤ۔اس کے بعد ناچار مجھے سوار ہونا پڑا اور میں روانہ ہو گیا۔راستہ میں بٹالہ کے قریب سینکڑوں لوگ برلب سڑک حضور کی انتظار میں بیٹھے ہوئے میں نے دیکھے انہیں دیکھ کر میں اپنے مسیح کی شفقت اور نوازش کو یاد کر کے وجد میں آ گیا۔میں نے خیال کیا کہ وہ انسان جس کے دیکھنے کے منتظر ہزاروں لوگ گھروں سے نکل کر راستہ میں انتظار کرتے ہیں وہ اپنے مریدوں سے شفقت کا وہ برتاؤ کرتا ہے کہ ان کے لئے خود تکلیف اٹھانی پسند کرتا ہے۔میں بٹالہ پہنچ کر اپنی لڑکی کے گھر گیا اور اس کی خیر و عافیت دریافت کر کے وہاں سے قادیان آنے والی سڑک کی طرف روانہ ہو گیا تا کہ حضور سے ملوں۔میں نے اپنے واقف کارلوگوں سے بھی کہا کہ آؤ میں تمہیں حضرت مرزا صاحب کو دکھاؤں ، وہ بھی میرے ساتھ چل پڑے اور جب بٹالہ شہر سے نکل کر کچی سڑک پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ خدا کا مسیح تن تنہا ہاتھ میں عصا پکڑے پیدل تشریف لا رہا ہے۔میں یکہ سے اتر گیا اور حضور کو بٹھالیا۔حضور نے مجھے بھی ساتھ ہی بیٹھنے کا حکم دیا اور اس طرح پر حضور بٹالہ اسٹیشن پر پہنچے۔صرف میرے یہ کہنے پر کہ مجھے اپنی لڑکی سے بٹالہ ملنا تھا اور اب چونکہ وقت تنگ ہو گیا ہے اس لئے نہیں مل سکوں گا۔حضور نے خود پیدل چلنا منظور فرمایا اور یکہ میں بٹھا کر روانہ کر دیا تا کہ یکہ ایک آدمی کو لے کر جلدی بٹالہ پہنچ جائے۔دوسرے اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی