سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 248 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 248

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۸ چا ہو تو واپس کرو۔اگر چہ قرض اور دادوستد میں یہ اصول عام نہیں قرار پاسکتا مگر انتہا کی محبت اور خلت کا یہ تقاضا ضرور ہے کہ انسان اپنے دوستوں کے لئے اپنے مال کو قربان کر سکے۔حضرت اقدس نے اپنے اس نمونہ سے یہ دکھایا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے لئے (حقیقت میں اپنے خدام کے لئے ان کو دوستی کی عزت دینا تو آپ کا خاص کرم ہے۔عرفانی) روپیہ کی کبھی پرواہ ہی نہ کرتے تھے۔اور کبھی دوستوں سے حساب بھی نہ مانگتے تھے۔یہاں تک کہ جب تک لنگر خانہ کا اہتمام اپنے ہاتھ میں رکھا لنگر کے مہتمم سے کبھی حساب نہ مانگا۔جب اس نے آکر جو کچھ مانگا دے دیا۔فصیح صاحب کا واقعہ منشی غلام قادر فصیح جو پنجاب گزٹ سیالکوٹ کے ایڈیٹر اور حضرت حکیم الامت کے ہم زلف تھے (افسوس ہے آخر میں بعض عملی کمزوریوں اور شامت اعمال نے انہیں عملاً سلسلہ سے الگ کر دیا۔عرفانی ) کو ایک مرتبہ بہت سا روپیہ ایقاظ الناس“ اور بعض دوسری عربی کتابوں کے لئے دیا۔وہ اس کا حساب بنا کر لائے اور حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے فرمایا کہ میں اپنے دوستوں سے حساب نہیں کرتا اپنے مال کا حساب نہیں ہوتا۔میں اپنے دوستوں پر اعتماد کرتا ہوں اور پھر کیا کوئی اپنے اموال کو ضائع کرتا ہے۔“ غرض ان کا کاغذ پھاڑ ڈالا اور اس کو نا پسند کیا۔اور یہ بات کسی خاص شخص سے مخصوص نہ تھی سب کے ساتھ یہی برتاؤ اور سلوک تھا۔کسی کی ضرورت کا احساس آپ اس کے بیان کرنے سے پہلے کرتے اور اس خیال اور ٹوہ میں رہتے کہ کوئی تکلیف میں نہ ہو اور اگر آپ کے علم میں آتا تو فوراً اس کے لئے مالی قربانی کرتے۔پھر حقوق دوستی میں سے یہ بات بھی ہے کہ اپنے دوستوں کے حق میں اچھی بات کہے اور ان کے خلاف سن نہ سکے اور اگر کوئی ان پر زبانی حملہ کرے تو اس کی مدافعت کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت شریف تھی کہ آپ کبھی اپنے خدام کے خلاف کوئی بات سن نہ سکتے تھے۔اور