سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 247
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۲۴۷ زندگی میں ہوا وہ اوپر کی سطروں سے نمایاں ہے۔وہی افضل جو بیوی کو افریقہ نہ آنے پر چھوڑ دینے پر آمادہ تھا خود قادیان چلا آیا اور مرکز ہم سے الگ ہوا۔جن مصائب اور مشکلات معیشت میں سے وہ گزرا ان کا کسی قدر نقشہ او پر دکھایا گیا ہے۔مگر اس کی تکالیف کی داستان اس سے بھی لمبی ہے۔میں نے یہاں مرحوم افضل کی سیرت کو نہیں دکھانا۔یہ ایک واقعہ کا بیان تھا اور میں نے ان حالات کولکھ دینا عہد دوستی اور حق معاصرت کی ادائیگی سمجھا اور مجھے خوشی ہے کہ میں پچیس برس کے بعد آنے والے دوستوں میں اپنے مرحوم بھائی کو زندہ کر رہا ہوں اور بہت ہوں گے جو اس کے اُسوہ سے انشاء اللہ سبق لیں گے۔غرض حضرت مسیح موعود عہد دوستی کی بہت بڑی قدر کرتے تھے۔حقوق دوستی میں پہلی بات یہ ہے کہ یہ محض خدا کی رضا کے لئے ہو ، دنیا کی کوئی غرض درمیان میں نہ ہو اور دوستی ہو جانے کے بعد پھر انسان اپنے مال کو اپنے دوستوں سے عزیز نہ رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل سے ہمیشہ اس کو دکھایا ہے۔حضرت حکیم الامت اور حکیم فضل الدین کا واقعہ ایک مرتبہ حکیم الامت حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود سے چارسور و پیہ قرض لیا اور جب مولوی صاحب کے اپنے خیال اور وعدہ کے موافق ادا ئیگی کا وقت آیا تو انہوں نے وہ روپیہ حضرت کی خدمت میں واپس کیا تو حضرت اقدس نے وہ روپیہ مولوی صاحب کو یہ کہ کر واپس کیا کہ آپ نے میرے روپیہ کو اپنے روپیہ سے الگ سمجھا ہے اور یہ ایسے طور پر فرمایا کہ مولوی صاحب گویا بیدار ہو گئے۔کسی دوسرے موقع پر حکیم فضل الدین صاحب کو بھی کچھ روپیہ لینے کی ضرورت پیش آئی اور انہوں نے حضرت سے روپیہ لیا۔واپسی کے وقت انہوں نے حضرت مولوی صاحب سے ذکر کیا کہ میں نے حضرت صاحب سے کچھ روپیہ قرض لیا ہوا ہے واپس کرنا ہے تو حضرت مولوی صاحب نے ان کو کہا کہ میں یہ غلطی کر کے جھاڑ کھا چکا ہوں تم نے ایسا نہ کرنا۔قرض کا روپیہ اس کو سمجھ کر واپس نہ کرنا۔حضرت صاحب نے قرض قرار دے کر نہیں دیا۔کسی اور طریق پر