سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 245
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۵ اس قابل ہوا کہ نمونہ ٹھہرتا اور نہ اس کے حالات اور تقلبات دیکھنے اور برتنے والوں کی نگاہ میں شہرت عام اور بقائے دوام کے استحقاق کا کوئی نشان رکھتے تھے۔اس لحاظ سے ان کی زندگی بہت ہی محدود ہے۔مگر ایک عارف کی بازدید کے لحاظ سے ابدی اور نہایت بابرکت ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ دنیا کی دلکش نظارہ گاہوں کی فرحت بخش ہواؤں میں پیٹ بھر کر سیر کرنے کے بعد ہمارے مغفور بھائی کو معلوم ہوا کہ یہ سب فانی اور خیالی تھیٹر ہے اور ان نا پائیدار لذتوں پر سرنگوں ہونے کا انجام اچھا نہیں۔اس روحانی تبدیلی نے انہیں قادیان کی طرف متوجہ کیا جو ابدی اور باقی لذتوں اور واقعی روح افزا نظاروں کی سارے جہاں میں ایک جگہ ہے۔اس کشش اور میلان کی انہوں نے بلا مدافعت پیروی کی۔قادیان میں آئے چند روز رہے پورے بے سامان اور عیال کثیر اور بظاہر معاش کا کوئی امید دلانے والا منظر نہیں با ایں ہمہ صدق دل سے عزم کر لیا کہ جو ہو سو ہو۔یہاں سے نہیں جاؤں گا۔یہ ایک فقرہ یا عہد ہے جو بہت سے مونہوں سے نکلا۔میرے کانوں نے سنا ہے اور حافظہ نے یا درکھا مگر کہنے والوں نے آخر کا ر ایسا دکھایا کہ انہوں نے منہ سے کوئی مردانہ بات نہیں نکالی تھی بلکہ تھوک پھینکی تھی۔خدا تعالیٰ نے بھی ان کے دل کو دیکھ کر ان کے عہد اور وعدہ پر توفیق نازل نہ فرمائی مگر مرحوم محمد افضل کے خلوص نیت کا ثبوت خواستیم اعمال نے دے دیا اور سب قیل اور قال کا خاتمہ کر دیا۔مرحوم کے دل میں مدت سے خیال تھا کہ قادیان میں ایک اخبار نکالا جاوے۔اس مضمون کا ایک مفصل خط ایک دفعہ انہوں نے افریقہ سے مجھے لکھا تھا۔یہاں وہ قیام کے عزم بالجزم اور دوام سکونت کے اسباب کی تلاش اور نگہداشت نے انہیں اس ارادہ پر پختہ کر دیا اور آخر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ فلاح دارین کا یہی ایک ذریعہ ہے اس سے قوم کی خدمت بھی ہو گی اور قوت لایموت بھی مل جائے گا۔