سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 242
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۲ اخوت وخلت اخوت اور خلت کی حقیقت در اصل مومنین ہی میں پائی جاتی ہے اس میں شک نہیں کہ خونی اور جسمانی تعلق بھی ایک اخوت پیدا کرتا ہے اور دنیا کے اغراض اور مصالح اور مفاد بھی ایک خلت پیدا کرتے ہیں مگر ان ہر دو صفات کی حقیقت ایمان سے ہی پیدا ہوتی ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی، بھائی ہی تھے جو بُری مثال انہوں نے اخوت کی تاریخ میں چھوڑی ہے وہ برادران یوسف کی ضرب المثل سے ظاہر ہے قرآن کریم نے اس حقیقت کو ظاہر کیا ہے کہ حقیقی اخوت اور حقیقی خُلت محض ایمان سے ہی قائم ہوتی ہے۔پس کسی شخص میں اخوت اور خلت کا جس قدر معیار بلند ہوگا اسی قدر اس کے ایمان کا درجہ بلند ہوگا اور اس خصوص میں انبیاء علیہم السلام کا مقام سب سے اعلیٰ ہوتا ہے اور ان میں سب سے بڑھ کر بلند مقام پر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت میں ان صفات کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان کی بھی وہی شان نظر آتی ہے جو آپ کے اور ہم سب کے آقا و سردار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعات زندگی میں پائی جاتی ہے۔احمق اور نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسری ہو جاتی ہے حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔حضرت مسیح موعود کو جو کچھ ملا وہ آپ کا نہیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے اور احمد قادیانی کہ آئینہ میں احمد مگی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان جلوہ گر ہے۔غرض اخوت اور خلت کا اعلیٰ مقام بدوں کامل الایمان ہونے کے متحقق نہیں ہوتا۔آؤ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے واقعات میں اس حقیقت کو دیکھیں۔