سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 234
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۴ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُوْنَ أُولَيكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔(البقرة: ۱۵۶ تا ۱۵۸) اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کی طرف سے بھی امتحان آیا کرتے ہیں۔مجھے بڑی خوشی اس بات کی بھی ہے کہ میری بیوی کے منہ سے سب سے پہلا کلمہ جو نکلا ہے وہ یہی تھا کہ اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔کوئی نعرہ نہیں مارا۔کوئی چیچنیں نہیں ماریں۔اصل بات یہ ہے کہ دُنیا میں انسان اسی واسطے آتا ہے کہ آزمایا جاوے۔اگر وہ اپنی منشاء کے موافق خوشیاں مناتا رہے اور جس بات پر اس کا دل چاہے وہی ہوتا رہے تو پھر ہم اس کو خدا کا بندہ نہیں کہہ سکتے۔اس واسطے ہماری جماعت کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طرح کی تقسیم کی ہوئی ہے اس لیے اس تقسیم کے ماتحت چلنے کی کوشش کی جاوے۔ایک حصہ تو اس کا یہ ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو مانتا ہے۔اور دوسرا حصہ یہ ہے کہ وہ اپنی منواتا ہے۔جو شخص ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اس کی مرضی کے مطابق کرتار ہے اندیشہ ہے کہ شاید وہ کسی وقت مرند ہو جاوے۔کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلا کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتدا سے سب نبیوں پر آتا رہا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا بیٹا جب فوت ہوا تھا تو کیا انہیں غم نہیں ہوا تھا۔ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے۔آخر بشریت ہوتی ہے۔غم کا پیدا ہونا ضروری ہے۔مگر ہاں صبر کرنے والوں کو پھر بڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی ساری کتابوں کا منشا یہی ہے کہ انسان رضا بالقضا سیکھے۔جو شخص اپنے ہاتھ سے آپ تکلیف میں پڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کے لیے ریاضات اور مجاہدات کرتا ہے وہ اپنے رگ پٹھے کی صحت کا خیال بھی رکھ لیتا ہے اور اکثر اپنی خواہش کے موافق ان اعمال کو بجالاتا ہے اور حتی الوسع اپنے