سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 184
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۴ ہے ہی لیکن حضرت خلیفتہ اللہ کو اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بڑھ کر اس کا درد ہے اس سے پہلے کئی مرتبہ فرمایا کہ دعا ہو نہیں سکتی جب تک دوسرے کے دکھ اور در دکو میں اپنے اوپر نہ لے لوں وہ نظارہ اب دیکھا گیا۔غرض مولوی عبد الکریم صاحب کی علالت کے ایام میں جہاں بہت سے نشانات اعجازی احیا کے کرشمے ہم نے دیکھے وہاں اس رقتِ قلب کا بھی مشاہدہ کیا جو حضرت مسیح موعود میں تھی۔باوجود یکہ حضرت صاحب نچلی منزل میں رہتے تھے اور مولوی صاحب مرحوم بالا خانہ پر رہا کرتے تھے آپ نے بار ہا فرمایا کہ میں نے کئی مرتبہ شام کی نماز کے لئے وضو اس نیت سے کیا ہے کہ اوپر جا کر نماز پڑھوں گا ( موسم گرما میں جیسا کہ آج کل بھی معمول ہے مغرب اور عشا اور فجر کی نمازیں چھت پر پڑھی جاتی تھیں اور یہ چھت مولوی صاحب کے کمرہ سے ملحق تھی۔عرفانی ) اور نیز مولوی صاحب کو دیکھوں گا مگر میں ضعف دل کی وجہ سے سیٹرھیاں نہیں چڑھ سکا۔“ حضرت اقدس کا سلوک ایام علالت میں اجمالی نظر اب میں اس حصہ کو ختم کرنے کے لئے حضرت اقدس کے اس سلوک کا اجمالی ذکر کرتا ہوں جو آپ نے حضرت مخدوم الملتہ سے ایامِ علالت میں کیا اور اسے میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے الفاظ میں درج کرتا ہوں۔جس روز سے کہ مولوی صاحب علیل ہوئے اس گھڑی تک کہ انہوں نے اس جہاں سے اپنے تعلقات کا انقطاع کیا مجھے مولوی صاحب مرحوم و مغفور کی خدمت میں رہ کر سعادت حاصل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے موقع دیا اور چونکہ حضرت اقدس اپنے خاص کرم اور مہربانی سے مولوی صاحب مرحوم کے متعلق ہر ایک علاج میں اور ان کے کھانے پینے کی ہر ایک چیز کے متعلق خاکسار سے مشورہ لیتے اور مولوی صاحب کی طبیعت بعض اوقات رات کو بگڑ جاتی تھی اس لئے مجھے اس وقت