سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 183
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۸۳ ماموروں کی ہی یہ شان ہے کہ اپنی تکالیف کو بھی دوسروں کی خاطر بھول جاتے ہیں بلکہ قریب موت پہنچ جاتے ہیں۔حضرت اقدس نصف شب سے آخر شب تک مصروف دعا رہے اس عرصہ میں مولوی صاحب ممدوح کے دروازہ پر آن کر حال بھی پوچھا ساری دنیا سوتی تھی مگر یہ خدا کا جری جاگتا تھا۔اپنے لئے نہیں اپنی اولاد کے لئے نہیں اپنے کسی ذاتی مقصد اور اغراض کے لئے نہیں۔صرف اس لئے کہ تا رحیم و کریم مولیٰ کے حضور اپنے ایک مخلص کی شفا کے لئے دعا کرے۔غرض حضرت کئی رات بالکل نہیں سوئے جس سے طبیعت کو بہت مضمحل ہو گئی مگر اس اضمحلال نے آپ کو تھکا یا نہیں۔ایک دن فرماتے تھے میں نے بہت دعا کی ہے اس قدر دعا کی ہے اگر تقدیر مبرم نہیں تو انشاء اللہ بہت مفید ہوگی۔پھر فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کبھی اس قسم کا اضطراب اور فکر میں نے اپنی اولاد کے لئے بھی نہیں کیا۔نہ خود دعاؤں میں مصروف رہے بلکہ بعض خدام کو بلا کر کہا کہ تم ساری رات دعائیں کرو اور اس طرح پر اپنے بھائی کی مدد کرو۔میں الفاظ نہیں لاسکتا جو اس نقشہ کو دکھاؤں اور کیونکر دکھاؤں مصور کا قلم بھی نہیں دکھا سکتا کہ آپ دعاؤں کی قبولت پر کیسا ایمان رکھتے ہیں اور اس کو کیسی اکسیر اپنے تجربہ سے مانتے ہیں۔فرمایا میں نے ہر چند چاہا کہ دو چار منٹ کے لئے ہی سو جاؤں مگر میں نہیں جانتا کہ نیند کہاں چلی گئی۔یہ باتیں ایک روز آپ نے صبح کو بیان فرمائیں۔بعض خدام نے عرض کی حضور اس وقت جا کر آرام کرلیں۔فرمایا اپنے اختیار میں تو نہیں میں کیونکر آرام کر سکتا ہوں جبکہ میرے دروازہ پر ہائے ہائے کی آواز آتی ہے۔میں تو اس قلق اور کرب کو جو مولوی صاحب کو ہوا دیکھ بھی نہیں سکتا ( اللہ رے رقت قلب۔ایڈیٹر ) اس لئے میں اوپر نہیں گیا۔غرض آپ کو بہت در دو کرب ہے۔میں یقینا کہتا ہوں کہ حضرت مخدوم الملت کو تو جو درد اور تکلیف ہے وہ