سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 173
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۳ ہو اور بیمار بھی ہو مت جاؤ زندگی کا اعتبار نہیں۔اس نے کہا کہ تو خدا کا رسول ہے تو سچا رسول ہے بے شک تو خدا کا رسول ہے میں تجھ پر ایمان لایا ہوں اور صدق دل سے تجھے خدا کا رسول مانا ہے میں تیری نافرمانی اور حکم عدولی کو کفر سمجھتا ہوں۔بار بار یہ کہتا تھا اور دایاں ہاتھ اٹھا کے اور انگلی سے آپ کی طرف اشارہ کر کے بڑے جوش سے کہتا اور آپ اس کی باتوں کو سن کر بار بار ہنستے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے بس اب آرام کرو اور یہیں رہو اور جانے کا نام مت لو۔اس کی آنکھوں سے پانی جاری تھا۔یہ کہتا ہوا مہمان خانہ کو لوٹا کہ اللہ کے رسول کا فرمانا بسر و چشم منظور ہے۔(روایت پیر سراج الحق صاحب ) میاں الہی بخش یہاں ٹھہر گئے اور مہمان خانہ میں رہتے تھے۔حضرت صاحب ان کی عیادت کو جاتے رہے اور تھوڑے عرصہ کے بعد وہ فوت ہو گئے اور اب مقبرہ بہشتی میں آرام کرتے ہیں۔یہ لوگ جن کا میں نے ذکر کیا ہے دنیوی وجاہت اور مالی حیثیت سے ممتاز نہیں تھے بلکہ غربا کی جماعت میں سے تھے ہاں اپنے اخلاص کے لحاظ سے قابلِ رشک اور واجب الاحترام تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی عیادت کے لئے جاتے تھے اس لئے کہ آپ کی نظر مادی امتیازات پر کبھی نہ پڑتی تھی بلکہ اس معاملہ میں جو چیز آپ کے مد نظر تھی وہ عام انسانی ہمدردی تھی اور جس چیز کو آپ پسند کرتے تھے وہ وہی تھی جو خدا کی نگاہ میں پسندیدہ تھی۔عیادت مرضی کے لئے حضرت نے کبھی امتیاز کو جائز ہی نہیں رکھا بلکہ غرباء کی عیادت کے لئے عموماً آپ جاتے تھے اور اخلاص فی الدین ہی ایک چیز تھی جو آپ کی توجہ اور نظر شفقت کو خصوصیت سے کھینچ سکتی تھی۔میر عباس علی صاحب کی عیادت کے لئے لو د ہا نہ جانا عیادت کے لئے بعض اوقات آپ نے سفر بھی کئے ہیں۔لودہا نہ میں ایک میر عباس علی صاحب صوفی تھے۔ابتدا میں حضرت اقدس کے ساتھ بڑی محبت اور اخلاص تھا۔اور براہین احمدیہ کی اشاعت کے ساتھ ہی ان کو یہ ارادت پیدا ہوئی یہاں تک کہ براہین احمدیہ کی پہلی جلد کو دیکھ کر اس