سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 169
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۶۹ خوفزدہ ہو کر آغاز دسمبر ۱۸۹۸ء میں اسلحہ خود حفاظتی کے لئے ایک درخواست دی اور بٹالہ کے سب انسپکٹر نے (جوان ایام میں سخت مخالف تھا اور خدا کے عظیم الشان نشانات میں سے یہ امر ہے کہ اس کا خاندان اب ایک نہایت ہی مخلص احمدی خاندان ہے جو سلسلہ کے لئے ہر ایک قربانی میں اپنی سعادت سمجھتا ہے اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ۔اور یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آخر میں سب انسپکٹر موصوف نے ایک زبر دست نشان دیکھ کر مخالفت سے توبہ کر لی تھی۔عرفانی ) ان حالات میں زیر دفعہ ۱۰۷ حفظ امن کی ضمانت کے لئے رپورٹ کی تھی اور اس طرح پر مولوی محمد حسین والا مقدمہ شروع ہو گیا۔اس کی ایک تاریخ پیشی پر حضرت اقدس کو پٹھان کوٹ جانا پڑا مجھے ہم رکابی کا شرف حاصل تھا۔رات کو میں یکا یک سخت بیمار ہو گیا۔درد معدہ کا حملہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی پیشاب پاخانہ بھی بند ہو گیا۔میں جس کمرہ میں سویا ہوا تھا اس میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم تھے۔میں اُن کی نزاکت طبع سے واقف تھا۔ان کے آرام کا خیال کر کے میں ہائے تک منہ سے نہ نکال سکتا تھا اور درد ہر آن بڑھتا جاتا تھا۔آخر میں نہایت تنگ ہو کر دوسرے کمرے میں جو اس کے ساتھ ہی تھا جہاں حضرت حکیم الامت سوئے پڑے تھے آیا اور ان کے پہلو میں اس نیت سے لیٹ گیا کہ وہ کروٹ بدلیں تو عرض کروں۔چنانچہ انہوں نے کروٹ بدلا تو میں نے کہا ہائے میری یہ آواز حضرت کے کان میں بھی پہنچی جو اس کے ساتھ ہی کمرے میں استراحت فرما تھے۔قبل اس کے کہ مولوی صاحب اٹھتے حضرت اقدس فوراً اٹھ کر تشریف لے آئے اور پوچھا میاں یعقوب علی کیا ہوا ؟ ان الفاظ میں محبت اور ہمدردی کا ایک ایسا نشہ تھا کہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔حضرت کی آواز کے ساتھ ہی حضرت حکیم الامت اور دوسرے احباب اٹھ بیٹھے میں نے اپنی حالت کا اظہار کیا۔آپ نے مولوی صاحب کو فرمایا کہ میں دوائی دیتا ہوں چنانچہ آپ چند گولیاں لائے جو صبر کی گولیاں تھیں اور مجھ کو کھلا دی گئیں اور اس کے ساتھ ہی نہایت تسلی اور اطمینان دلایا کہ گھبراؤ نہیں ابھی آرام آجائے گا۔میں دعا بھی کرتا ہوں۔حضرت کی اس توجہ کو دیکھ کر تمام احباب کو میرے ساتھ کمال ہمدردی پیدا ہوگئی یہاں تک کہ حضرت مولوی عبد الکریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا نازک طبیعت اور