سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 151
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۵۱ حصہ اول غرض آپ کو اپنے خدام کے متعلق خصوصیت سے یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ بہت بار بار آئیں اور کثرت سے آئیں اور ان کے قیام کی وجہ سے جو کچھ بھی اخراجات ہوں ان کو برداشت کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔(۸) آٹھویں خصوصیت یہ تھی کہ مہمان نوازی کے لئے دوست دشمن کا امتیاز نہ تھا بلکہ بریں خوان یغما چه دشمن چه دوست کا مضمون آپ کے دستر خوان پر نظر آتا تھا۔جیسا کہ میں نے آپ کے اخلاق عفو درگزر میں دکھایا ہے کہ یہ خلق خادموں اور دوستوں تک محدود نہ تھا اسی طرح مہمان نوازی بھی وسیع اور عام تھی۔کسی خاص قوم اور فرقہ تک محدود نہ تھی۔بلکہ ہندو، مخالف الرائے مسلمان، عیسائی یا کسے باشد جو بھی آجاتا اس کے ساتھ اسی محبت سے پیش آتے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی میں بروایت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری لکھا ہے کہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیت الفکر میں ( مسجد مبارک کے ساتھ والا حجرہ جو حضرت صاحب کے مکان کا حصہ ہے ) بیٹھے ہوئے تھے اور میں پاؤں دبا رہا تھا کہ حجرہ کی کھڑکی پر لالہ شرمیت یا شاید لالہ ملا وامل نے دستک دی۔میں اٹھ کر کھڑ کی کھولنے لگا مگر حضرت صاحب نے بڑی جلدی اٹھ کر تیزی سے جا کر مجھ سے پہلے زنجیر کھول دی اور پھر اپنی جگہ بیٹھ گئے اور فرمایا آپ ہمارے مہمان ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہیے۔“ (سیرت المہدی جلدا روایت نمبر ۸۹ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اسی طرح ایک مرتبہ بیگو وال ریاست کپورتھلہ کا ایک ساہوکار اپنے کسی عزیز کے علاج کے لئے آیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع ہوئی۔آپ نے فوراً اس کے لئے نہایت اعلیٰ پیمانہ پر قیام و طعام کا انتظام فرمایا اور نہایت شفقت اور محبت کے ساتھ ان کی بیماری کے متعلق دریافت کرتے رہے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ امسیح اوّل رضی اللہ عنہ کو خاص طور پر تاکید فرمائی۔اسی سلسلہ میں آپ نے یہ بھی ذکر کیا کہ سکھوں کے زمانہ میں ہمارے بزرگوں کو ایک مرتبہ