سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 141
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۱ حصہ اول مدارات میں مصروف ہے۔میں نے عذر کیا کہ حضور نے کیوں تکلیف فرمائی۔فرمایا ”نہیں نہیں تکلیف کس بات کی آپ کو آج بہت تکلیف ہوئی ہے اچھی طرح سے آرام کرو۔“ غرض آپ بستر رکھ کر تشریف لے گئے اور حافظ حامد علی صاحب میرے پاس بیٹھے رہے۔انہوں نے محبت سے کھانا کھلایا اور بستر بچھا دیا۔میں لیٹ گیا تو مرحوم حافظ حامد علی نے میری چاپی کرنی چاہی تو میں نے بہت ہی عذر کیا تو وہ رکے مگر مجھے کہا کہ حضرت صاحب نے مجھے فرمایا تھا کہ ذرا دبا دینا بہت تھکے ہوں گے۔ان کی یہ بات سنتے ہی میری آنکھوں سے بے اختیار آنسونکل گئے کہ اللہ ! اللہ ! کس شفقت اور محبت کے جذبات اس دل میں ہیں۔اپنے خادموں کے لئے وہ کس درد کا احساس رکھتا ہے۔فجر کی نماز کے بعد جب آپ تشریف فرما ہوئے تو پھر دریافت فرمایا کہ نیند اچھی طرح آگئی تھی۔اب تکان تو نہیں۔غرض اس طرح پر اظہار شفقت فرمایا کہ مجھے مدت العمر یہ لطف اور سرور نہ بھولے گا۔میں چند روز تک رہا اور ہر روز آپ کے لطف و کرم کو زیادہ محسوس کرتا تھا۔جانے کے لئے اجازت چاہی تو فرمایا نوکری پر تو جانا نہیں اور دو چار روز رہو میں پھر ٹھہر گیا۔آخر آپ کی محبت و کرم فرمائی کے جذبات کا ایک خاص اثر لے کر گیا اور وہ کشش تھی کہ مجھے ملا زمت چھوڑ ا کر یہاں لائی اور پھر خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کیا کہ مجھے اس آستانہ پر دھونی رما کر بیٹھ جانے کی توفیق عطا فرمائی۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ میں نے مختصراً اس واقعہ کو صاف اور سادہ الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔میں اس وقت ایک غریب طالب علم تھا اور کسی حیثیت سے کوئی معروف درجہ نہ رکھتا تھا۔مگر حضرت اقدس کی مہمان نوازی اور وسعت اخلاق سب کے لئے یکساں تھی۔وہ ہر آنے والے کو سمجھتے تھے کہ یہ خدا کے مہمان ہیں۔ان کی آسائش ، تالیف قلوب اور ہمدردی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتے تھے آپ کی پیاری پیاری باتوں اور آرام دہ برتاؤ کو دیکھ کر گھر بھی بھول جاتا تھا۔ہر ملاقات میں پہلے سے زیادہ محبت اور شفقت کا اظہار پایا جاتا تھا۔اور مخفی طور پر خادم مہمان خانہ کو ہدایت ہوتی تھی کہ مہمانوں کے آرام کے لئے ہر طرح خیال رکھو۔اور براہ راست انتظام اپنے ہاتھ میں اس لئے رکھا تھا کہ مہمانوں کوکسی قسم کی تکلیف نہ ہونے پائے۔