سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 138
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۳۸ حصّہ اوّل آنکھوں میں ایک خاص طرح کی چمک اور کیفیت ہے اور باتوں میں ملائمت ہے۔طبیعت منکسر مگر حکومت خیز۔مزاج ٹھنڈا مگر دلوں کو گرما دینے والا۔بُردباری کی شان نے انکساری کیفیت میں اعتدال پیدا کر دیا ہے۔گفتگو ہمیشہ اس نرمی سے کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے گو یا متبسم میں رنگ گورا ہے بالوں کو دنا کا رنگ دیتے ہیں۔جسم مضبوط اور محنتی ہے سر پر پنجابی وضع کی سپید پگڑی باندھتے ہیں۔سیاہ یا خا کی لمبا کوٹ زیب تن فرماتے ہیں پاؤں میں جراب اور دیسی جوتی ہوتی ہے۔عمر قریبا چھیاسٹھ سال کی ہے۔مرزا صاحب کے مریدوں میں میں نے بڑی عقیدت دیکھی اور انہیں بہت خوش اعتقاد پایا۔میری موجودگی میں بہت سے معزز مہمان آئے ہوئے تھے جن کی ارادت بڑے پایہ کی تھی۔اور بے حد عقیدت مند تھے۔مرزا صاحب کی وسیع الاخلاقی کا یہ ادنیٰ نمونہ ہے کہ اثنائے قیام کی متواتر نوازشوں کے خاتمہ پر بایں الفاظ مجھے مشکور ہونے کا موقعہ دیا۔”ہم آپ کو اس وعدہ پر اجازت دیتے ہیں کہ آپ پھر آئیں اور کم از کم دو ہفتہ قیام کریں۔“ (اس وقت کا تبسم ناک چہرہ اب تک میری آنکھوں میں ہے )۔میں جس شوق کو لے کر گیا تھا ساتھ لایا۔اور شاید وہی شوق مجھے دوبارہ لے جائے واقعی قادیان نے اس جملہ کو اچھی طرح سمجھا ہے حَسنُ خُلُقَكَ وَلَوْ مَعَ الكُفَّارِ۔میں نے اور کیا دیکھا ؟ بہت کچھ دیکھا مگر قلم بند کرنے کا موقع نہیں اسٹیشن جانے کا وقت سر پر آچلا ہے پھر کبھی بتاں گا کہ میں نے کیا دیکھا۔راقم آہ دہلوی۔(الحکم ۲۴ مئی ۱۹۰۵ء صفحه۱۱،۱۰) افسوس ہے کہ مولانا ابونصر آہ کو موت نے فرصت نہ دی ورنہ وہ دوبارہ قادیان میں آتے اور ضرور آتے اور جو وعدہ کر کے وہ یہاں سے گئے تھے اسے پورا کرتے۔سلسلہ کے لئے ایک محبت اور اخلاص کی آگ ان کے سینہ میں سلگ چکی تھی اور ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کے