سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 136
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ حصہ اول قواعد کی پابندیاں کسی کے لئے تکلیف کا موجب نہ ہو جائیں۔اور آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ آپ ہر مہمان کے متعلق اس امر کا بھی التزام رکھتے تھے کہ وہ کس قسم کی عادات کھانے کے متعلق رکھتا ہے۔مثلاً اگر حیدر آباد یا کشمیر سے کوئی مہمان آتا تو آپ اس کے کھانے میں چاول کا خاص طور پر التزام فرماتے کیونکہ وہاں کی عام غذا چاول ہے۔اور اس امر کی خاص تاکید کی جاتی اور کوشش یہ رہتی تھی کہ مہمان اپنے آپ کو اجنبی نہ سمجھے بلکہ وہ یہی سمجھے کہ اپنے گھر میں ہے۔حضرت اقدس کے معمولات میں یہ بات بھی تھی کہ جب وہ مہمانوں کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھتے تھے تو ہمیشہ سب مہمانوں کے کھا چکنے کے بعد بھی بہت دیر تک کھاتے رہتے اور غرض یہ ہوتی تھی کہ کوئی شخص حجاب نہ کرے اور بھوکا نہ رہے اس لئے آپ بہت دیر تک کھانا کھاتے رہتے۔اگر چہ آپ کی خوراک بہت ہی کم تھی غرض آپ کی مہمان نوازی عدیم المثال تھی اور آپ کا دستر خوان بہت وسیع تھا۔(۹) مولانا ابوالکلام آزاد کے بڑے بھائی ابونصر آہ مرحوم کا واقعہ مولوی ابوالکلام آزاد ( جو آج کل مسلمانوں کے سیاسی لیڈروں میں مشہور ہیں ) کے بڑے بھائی مولوی ابونصر آہ مرحوم ۲ رمئی ۱۹۰۵ء کو قادیان تشریف لائے تھے اور اخلاص ومحبت سے آئے تھے۔حضرت اقدس نے ان سے خطاب کر کے ایک مختصر سی تقریر کی تھی۔انہوں نے قادیان سے جانے کے بعد امرتسر کے اخبار وکیل میں اپنے سفر قادیان کا حال شائع کیا تھا۔اگر چہ اس میں بعض دوسری باتوں کا بھی ذکر ہے اور اگر میں صرف اس حصہ کو یہاں درج کر دیتا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مہمان نوازی پر روشنی ڈالتا ہے تو اس بات کے موضوع کے لحاظ سے مناسب تھا مگر اس مضمون کے نا تمام چھاپنے سے وہ اثر جو بہیت مجموعی پڑتا ہے کم ہو جاتا ہے اس لئے میں ان خیالات کو پورا درج کر دیتا ہوں۔وہ فرماتے ہیں میں نے اور کیا دیکھا ؟ قادیان دیکھا۔مرزا صاحب سے ملاقات کی ، مہمان رہا۔مرزا صاحب کے اخلاق اور توجہ کا مجھے شکریہ ادا کرنا چاہیے۔میرے منہ میں حرارت کی وجہ سے چھالے پڑ گئے تھے اور میں شور غذائیں کھا نہیں سکتا تھا۔مرزا