سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 135
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا یہ السلام ۱۳۵ حصہ اول اور اس کا اُن کے قلب پر خاص اثر تھا۔میں نے ان ایام میں دیکھا کہ حضرت قریباً روزانہ منشی عبدالحق کو سیر سے واپس لوٹتے وقت یہ فرماتے کہ۔" آپ مہمان ہیں ، آپ کو جس چیز کی تکلیف ہو مجھے بے تکلف کہیں کیونکہ میں تو اندر رہتا ہوں اور نہیں معلوم ہوتا کہ کس کو کیا ضرورت ہے۔آج کل مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے بعض اوقات خادم بھی غفلت کر سکتے ہیں۔آپ اگر زبانی کہنا پسند نہ کریں تو مجھے لکھ کر بھیج دیا کریں۔مہمان نوازی تو میرا فرض ہے۔“ (۸) ایک ہندو سادھو کی تواضع (اخبار الحکم ۷ فروری ۱۹۰۲ء صفحه ۵) اکتوبر ۱۹۰۲ء میں ایک ہندوسا دھوکوٹ کپورہ سے آیا اور حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوا مسلمانوں کے لئے تو کوئی خاص تردد اور تکلیف نہیں ہوسکتی کیونکہ لنگر جاری تھا اور جاری ہے وہاں انتظام ہر وقت رہتا ہے لیکن ایک ہندو مہمان کے لئے خصوصیت سے انتظام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ وہ انتظام دوسروں کے ہاں کرانا ہوتا ہے اس لئے اس کی مشکلات ظاہر ہیں تا ہم حضرت اقدس ہمیشہ ایسے موقعہ پر بھی پورا التزام مہمان نوازی کا فرماتے تھے۔۶ اکتوبر کی شام کو اُس نے حضرت اقدس سے ملاقات کی۔آپ نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ یہ ہمارا مہمان ہے اس کے کھانے کا انتظام بہت جلد کر دینا چاہیے۔ایک شخص کو خاص طور پر حکم دیا کہ ایک ہندو کے گھر اس کے لئے بندوبست کیا جاوے۔“ چنانچہ فورا یہ انتظام کیا گیا۔آپ کے دستر خوان پر دوست دشمن کی کوئی خاص تمیز نہ تھی۔ہر شخص کے ساتھ جو آپ کے یہاں مہمان آجاتا آپ پورے احترام اور فیاضی سے برتاؤ کرتے تھے۔اور اکثر فرمایا کرتے تھے کہ مہمان کا دل شیشہ سے بھی نازک ہوتا ہے اس لئے بہت رعایت اور توجہ کی ضرورت ہے اور بار بار لنگر خانہ کے خدام کو خود تاکید فرمایا کرتے تھے۔اور محض اسی خیال سے کہ مہمانوں کو کوئی تکلیف نہ ہو آپ نے اپنی حیات میں لنگر خانہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا تا کہ بعض ضوابط اور