سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 134
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۳۴ حصّہ اوّل ہو پس آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بلا تکلف کہہ دیں۔“ پھر جماعت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ: الحکم مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ء صفحیہ کالم نمبر ۲) دو یک دیکھو یہ ہمارے مہمان ہیں اور تم میں سے ہر ایک کو مناسب ہے کہ ان سے پورے اخلاق سے پیش آوے اور کوشش کرتا رہے کہ ان کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔“ الحکم مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۲ء صفحه ۴ کالم نمبر ۲) منشی عبدالحق صاحب پر تو جو اثر حضرت کی تبلیغ کا ہوا تھا اس کو آپ کے اس خلق مہمان نوازی نے اور بھی قوی کر دیا اور جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے منشی صاحب مسلمان ہو گئے اور اب تک مسلمان ہیں۔انہوں نے میاں سراج الدین صاحب بی۔اے کا بھی ذکر کیا ( یہ وہی سراج الدین ہے جس کے نام پر سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب شائع ہوا ہے )۔اس نے حضرت اقدس کی اعلیٰ درجہ کی اخلاقی خوبی کو خدا جانے کس آنکھ سے دیکھا۔جب وہ یہاں سے گیا ہے تو حضرت اقدس اس کو چھوڑنے کے لئے تین میل تک چلے گئے تھے۔اس کا ذکر اس نے منشی عبد الحق سے ان الفاظ میں کیا کہ جب میں آیا تھا تو وہ تین میل تک مجھے چھوڑنے آئے تھے۔میں اس موقع پر سلیم الفطرت قلوب سے اپیل کروں گا کہ وہ غور کریں۔حضرت مسیح موعود ایک شخص کو ( جو عیسائی ہو گیا تھا اور اس کے رشتہ دار وغیرہ اسے قادیان اس غرض سے لائے تھے کہ اسے کچھ فائدہ پہنچے۔چونکہ وہ دراصل اپنے بعض مقاصد کو لے کر عیسائی ہو گیا تھا اس لئے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکا ) چھوڑ نے جارہے ہیں۔کیا یہ کسی ذاتی غرض و مقصد کا نتیجہ ہے یا محض شفقت اور ہمدردی لئے جارہی تھی۔آپ کی فطرت میں یہ جوش تھا کہ کسی نہ کسی طرح یہ روح بچ جاوے اور اس وقت اور موقع کو غنیمت سمجھ کر آپ نے اکرام ضیف بھی کیا اور تبلیغ بھی کی مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔الغرض منشی عبدالحق صاحب جب تک یہاں رہے حضرت کی مہمان نوازی کے معترف رہے