سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 120
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۲۰ حصّہ اوّل کے ایک جولاہا نے ( جو ہمیشہ مقدمہ بازی کرنا ضروری سمجھتا تھا) ایک زمین کے متعلق جہاں آج کل شیخ نورالدین تاجر کا مکان ہے مقدمہ بازی شروع کر دی۔وہ جگہ دراصل حضرت ہی کی تھی۔حکیم فضل الدین صاحب کو دے دی گئی تھی۔سو اس جو لا ہانے حکیم صاحب مرحوم کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر دیا۔چونکہ حضرت اقدس پسند نہ فرماتے تھے کہ شرارتوں کا مقابلہ کیا جاوے آپ نے حکیم فضل الدین صاحب کو حکم دیا کہ جواب دہی چھوڑ دو۔زمینوں کی پروا نہیں خدا تعالیٰ چاہے گا تو آپ ہی دے دے گا۔زمین خدا کی ہے۔مرزا نظام الدین صاحب کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ آپ اپنے حق کو تو چھوڑتے ہیں مجھے ہی زمین دے دیں اور میں قیمت بھی دے دوں گا۔چنانچہ انہوں نے ایک پرا میسری نوٹ بھی لکھ کر بھیج دیا۔حضرت نے فرمایا کہ مرزا نظام الدین صاحب ہی کو یہ ٹکڑا زمین کا دے دیا جاوے۔چنانچہ وہ قطعہ زمین کا دے دیا گیا جو بعد میں مرزا صاحب موصوف نے ایک معقول قیمت پر حضرت کے ایک خادم کے ہاتھ فروخت کر دیا۔مگر حضرت نے کبھی اس زمین کی قیمت یا پرا میسری نوٹ کی رقم کا مطالبہ نہ فرمایا۔اس لئے کہ آپ کی فطرت ہی میں احسان و مروت رکھی گئی تھی۔یہ واقعہ ایسے وقت کا ہے کہ اس مقدمہ کی کل کا رروائی ختم ہو چکی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی فریق ثانی نے بطور شہادت طلب کرایا تھا اور اس طرح پر آپ کو اور آپ کی جماعت کو تکلیف رسانی میں کمی نہ کی تھی۔مقدمہ کی حالت یہ تھی کہ اس میں اب حکم سنانا باقی تھا اور وہ ہمارے حق میں تھا مگر آپ نے ایسے وقت میں اس زمین کو مرزا نظام الدین صاحب کے عرض کرنے پر ان کو دے دیا۔امر واقعہ کے طور پر میں یہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ سلسلہ کے ابتدائی ایام میں مرزا نظام الدین صاحب اور ان کے زیر اثر لوگوں کی وجہ سے ہماری جماعت کو ایسی تکالیف پہنچ چکی تھیں کہ قدرتی طور پر کوئی دنیا داران کے مقابلہ میں ہوتا تو ان کی تکلیف اور ایذا رسانی کے لئے منتقمانہ طور پر جو چاہتا کرتا مگر نہیں۔حضرت مسیح موعود کو جب موقعہ ملا اور ان پر ایک اقتدار حاصل ہوا تو آپ نے اسی طرح 66 لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ “ کہہ دیا جس طرح پر سید الرسل مﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا۔