سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 119 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 119

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا 119 حصّہ اوّل لئے ایسا کیا گیا ؤ الا اجرا مقصود نہ تھا“۔حضرت اقدس نے اس عذر کو بھی پسند نہ فرمایا اور فرمایا کہ آئندہ کبھی اس ڈگری کو اجبرانہ کرایا جاوے۔ہم کو دنیا داروں کی طرح مقدمہ بازی اور تکلیف دہی سے کچھ کام نہیں۔انہوں نے اگر تکلیف دینے کے لئے یہ کام کیا تو ہمارا یہ کام نہیں ہے۔خدا نے مجھے اس غرض کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا۔“ اور اُسی وقت ایک مکتوب مرزا نظام الدین صاحب کے نام لکھا اور مولوی یار محمد صاحب کو دیا کہ وہ جہاں ہوں ان کو جا کر فوراً پہنچائیں۔چنانچہ مولوی یار محمد صاحب اسے لے کر قادیان پہنچے اور قادیان میں انہیں نہ پا کر اور یہ معلوم کر کے کہ مرزا نظام الدین صاحب موضع مسانیاں گئے ہوئے ہیں، مسانیاں پہنچے۔اور وہاں جا کر وہ خط ان کو دیا گیا جس میں نہایت ہمدردی کا اظہار تھا اور ان کو اس ڈگری کے کبھی اجرا نہ کرنے کے متعلق یقین دلایا گیا تھا اور سب کچھ معاف کر دیا تھا۔مرزا نظام الدین صاحب پر اس خط کا جواثر ہوا وہ ان کی زندگی کے باقی ایام سے ظاہر ہوتا تھا کہ انہوں نے عملاً مخالفت کو ترک کر دیا تھا۔میں نے نہایت سادہ الفاظ میں واقعات کو لکھ دیا ہے اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عفو و درگزر کی جو نمایاں مثال نظر آتی ہے مجھ کو ضرورت نہیں کہ اسے رنگ آمیزی سے پیش کروں۔یہ ہے عفو و درگذر کا نمونہ اور دشمنوں کو معاف کرنے کی تعلیم کا عملی سبق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو دیا۔(۷) مرزا نظام الدین صاحب کا ایک اور واقعہ اسی سلسلہ میں مجھے ایک اور واقعہ کا اضافہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف معاف ہی نہیں کر دیا بلکہ مزید احسان اور لطف فرمایا۔ہمارے ایک نہایت ہی دوست اور حضرت کی راہ میں فدا شدہ بھائی حضرت حکیم فضل الدین رضی اللہ عنہ کے ساتھ قادیان