سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 118 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 118

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۸ حصّہ اوّل کہ ان کی آمد ورفت کا راستہ محض ایذا دہی کے لئے بند کر دیا ہو اور پانی بند کر کے کربلا کا نمونہ دکھایا ہو کیا وہ فریق اس قابل تھا کہ اس کے ساتھ کوئی سلوک کیا جاتا ؟ اس جرم کی پاداش میں جو سلوک بھی ان سے کیا جاتا وہ عقل اور انصاف واخلاق کے معیار پر بالکل جائز اور درست ہوتا مگر اخلاق اور اعلیٰ اخلاق کے معلم کی زندگی کے آئینہ میں دیکھو کہ وہ ان دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔حضرت اقدس نے کبھی اس خرچہ اور حرجہ کی ڈگری کا اجرا پسند نہ فرمایا۔یہاں تک کہ اس کی میعاد گزرنے کو آ گئی۔جب گورداسپور میں مقدمات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تو خواجہ کمال الدین صاحب نے محض اس خیال سے کہ اس کی میعاد نہ گزر جائے اس کے اجرا کی کارروائی کی۔اور اس میں حسب ضابطہ نوٹس مرزا نظام الدین صاحب کے نام جاری ہوا کہ اس وقت فریق ثانی میں سے وہی زندہ تھے۔مرزا امام الدین فوت ہو چکے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس واقعہ کی کچھ خبر نہ تھی۔مرزا نظام الدین صاحب کو جب نوٹس ملا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک خط لکھا۔میں اس وقت قادیان میں موجود تھا۔مرز انظام الدین صاحب نے مجھ کو وہ خط سنایا۔اس کا مضمون یہ تھا کہ دیوار کے مقدمہ کے خرچہ وغیرہ کی ڈگری کے اجرا کا نوٹس میرے نام آیا ہے اور میری حالت آپ کو معلوم ہے۔اگر چہ میں قانونی طور پر اس روپیہ کے ادا کرنے کا پابند ہوں اور آپ کو بھی حق ہے کہ آپ ہر طرح وصول کریں۔مجھ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری طرف سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی تکلیف آپ کو پہنچتی رہی ہے۔مگر یہ بھائی صاحب کی وجہ سے ہوتا تھا۔مجھ کو بھی شریک ہونا پڑتا تھا۔آپ رحم کر کے معاف فرما دیں تو آپ اس قابل ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ اُس خط کا مفہوم تھا اور یہ بھی چاہا گیا تھا کہ اگر معاف نہ کریں تو باقساط وصول کرلیں۔حضرت اقدس اس وقت گورداسپور میں مقیم تھے اور یہ بھی بارشوں کے ایام تھے۔حضرت اقدس کے پاس جس وقت خط پہنچا آپ نے سخت رنج کا اظہار کیا کہ کیوں اجرا کرائی گئی ہے۔مجھے سے کیوں دریافت نہیں کیا گیا۔اس وقت خواجہ صاحب نے عذر کیا کہ محض میعاد کو محفوظ کرنے کے