سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 112 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 112

سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۱۱۲ حصہ اول سوالات کرنے چاہے جو ان کی عزت و آبرو کو خاک میں ملا دیتے۔اُس نے حضرت مسیح موعود سے کہا کہ میں یہ سوال کرنا چاہتا ہوں مگر حضرت صاحب نے ان کو روک دیا اور باصرار اور بزور روکا۔مولوی فضل الدین صاحب اپنے فرض منصبی کو دیانت داری سے ادا کرنے کے لئے اور اپنے موکل کی صفائی اور بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ایسے تلخ دشمن اور معاند گواہ کو اصلی صورت میں دکھا دینا چاہتے تھے اور اگر وہ سوالات ہو جاتے تو خدا جانے مولوی محمد حسین صاحب اس مقام پر کھڑے رہ سکتے یا گر جاتے۔مگر حضرت نے قطعاً اجازت نہ دی بلکہ ایک باران کو کسی قدر سختی سے روک دیا کہ میں ہرگز اجازت نہیں دیتا۔یہ ایسی بات ہے کہ اس کے اپنے اختیار سے باہر ہے اور میں اس کی عزت کو بر باد نہیں کرنا چاہتا۔آخر مولوی فضل الدین صاحب بھی رک گئے۔مولوی فضل الدین صاحب احمدی نہیں مگر اس بلند ہمتی نے انہیں ہمیشہ آپ کا مداح رکھا ہے۔خیال کرو کہ مولوی محمد حسین تو جان تک کا دشمن ہے اور آپ کو ایک قاتل ثابت کرنا چاہتا ہے اور آپ کی یه شان رحم و در گزر ہے کہ ایک امر واقعہ کے متعلق بھی ( جو کوشش کی حیثیت و حالت پر ایک اثر ڈال سکتا ہے اور جو صحیح ہے ) اپنے وکیل کو اجازت نہیں دیتے کہ اس سے پوچھا جائے محض اس لئے کہ وہ ذلیل نہ کیا جاوے۔اس تمام خطرناک نتیجہ کے لئے اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں مگر دشمن کو اس امر سے بچا لیتے ہیں۔اس درگز رو علو ہمتی کی نظیر تلاش کرو نہیں ملے گی۔(۴) قادیان کے سکھوں اور ہندوؤں کا مقدمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کے ابتدائی ایام میں ہماری یہ حالت تھی کہ قادیان کی زمین باوجود فراخی کے ہم پر تنگ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان کے مالکوں میں سے تھے لیکن باوجود اس کے بھی آپ کی غریب اور قلیل جماعت کو سخت تکلیف دی جاتی تھی۔بعض اوقات باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کے دامن میں قادیان کے شریر اور خبیث مخالفوں نے پاخانہ ڈلوا دیا اور ایک ٹوکری مٹی کی بھی غریب مہاجرین کو اٹھانی مشکل ہو جاتی تھی اور کوئی دن ہم پر ایسا نہ گزرتا تھا