سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 109 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 109

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+9 حضر اوّل ارادہ کیا ہے کہ ضمیمہ شحنہ ہند کے توہین آمیز مضامین پر عدالت میں نالش کر دوں۔حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا ”ہمارے لئے خدا کی عدالت کافی ہے۔یہ گناہ میں داخل ہوگا اگر ہم خدا کی 66 تجویز پر تقدم کریں۔اس لئے ضروری ہے کہ صبر اور برداشت سے کام لیں۔“ جو لوگ اس گندہ لٹریچر سے واقف نہیں وہ اس فیصلہ کی اہمیت سمجھ نہیں سکتے۔مگر جنہوں نے اس کو دیکھا ہے وہ یقیناً کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس شخص سے عدالت کے ذریعہ انتقام لیا جاتا تو عقلاً ، عرفاً، اخلاق جائز ہوتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہرگز پسند نہ فرمایا۔یہ پہلا ہی موقع نہ تھا کہ حضرت اقدس نے اپنے دشمن کو اس طرح پر معاف کر دیا بلکہ اس قسم کا ایک واقعہ اس سے پہلے بھی گزرا۔(۲) ڈاکٹر کلارک کو معاف کر دیا میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک جو امرت سر کے میڈیکل مشن کے مشنری تھے اور مباحثہ آتھم میں عیسائیوں کی جانب سے پریذیڈنٹ تھے ایک دن خود بھی مناظر رہے۔انہوں نے ۱۸۹۷ء میں حضرت مسیح موعود کے خلاف ایک مقدمہ اقدام قتل کا دائر کیا۔یہ مقدمہ کچھ عرصہ تک چلتا رہا اور بالآخر محض جھوٹا اور بناوٹی پایا گیا اور حضرت اقدس عزت کے ساتھ اس مقدمہ میں بری ہوئے۔میں جو اس مقدمہ کو شائع کرنے والا ہوں اور ایک عینی شاہد ہوں اس وقت عدالت میں موجود تھا جب کپتان ڈگلس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور نے حضرت اقدس کو مخاطب کر کے کہا کہ ” کیا آپ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک پر مقدمہ چلائیں اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ کو حق ہے۔“ حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔دو میں کوئی مقدمہ کرنا نہیں چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے۔“ اس موقع پر اگر کوئی دوسرا آدمی ہوتا جس پر قتل کے اقدام کا مقدمہ ہو وہ اپنے دشمن سے ہر ما انتقام لینے کی کوشش کرتا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دشمنوں کو معاف کرو کی تعلیم پر صحیح