سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 104 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 104

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ حصہ اول اس کے کہ کوئی ذرا بھی اثر یا حرکت خفگی کی ظاہر کرے الٹا اس بات پر افسوس کرتا ہے کہ مولوی صاحب کو اس کے گم ہو جانے سے تشویش ہوئی۔مولوی صاحب کی تکلیف کا اسے احساس ہے اور اپنے حرج اور تکلیف کو بھول ہی گیا ہے۔دنیا کے مصنفین میں اس کی نظیر بتاؤ کبھی نہیں ملے گی۔ان سب باتوں کی جڑ خدائے زندہ اور قادر کی ہستی پر ایمان ہے یہ ایمان ہر وقت قومی کو زندہ اور تازہ رکھتا اور ہر قسم کی پژمردگی اور افسردگی سے بچاتا رہتا ہے جو دنیا داروں کو بسا اوقات بڑی بڑی شرمناک حرکات پر مجبور کرتی ہے۔“ ( مصنفہ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوئی صفحہ ۲۲٬۲۱) (۶) حافظ حامد علی مرحوم کا واقعہ اوپر کے واقعات سے پایا جاتا ہے کہ کوئی کتنا ہی بڑا نقصان کر دے آپ معاف کر دیتے اور معمولی چشم نمائی بھی نہیں کرتے تھے اور اس میں ایسا اثر اور جادو تھا کہ انسان ایک فوری تبدیلی کے لئے تیار ہو جاتا تھا۔حافظ حامد علی صاحب حضرت کے پرانے خدام میں سے تھے اور باوجود ایک خادم ہونے کے حضرت صاحب ان سے اس قسم کا برتاؤ اور معاملہ کرتے تھے جیسا کسی عزیز سے کیا جاتا ہے اور یہ بات حافظ حامد علی صاحب ہی پر موقوف نہ تھی۔حضرت کا ہر ایک خادم اپنی نسبت یہی سمجھتا تھا کہ مجھ سے زیادہ اور کوئی عزیز آپ کو نہیں۔بہر حال حافظ حامد علی صاحب کو ایک دفعہ کچھ لفافے اور کارڈ آپ نے دیئے کہ ڈاک خانہ میں ڈال آؤ۔حافظ حامد علی صاحب کا حافظہ کچھ ایسا ہی تھا۔پس وہ کسی اور کام میں مصروف ہو گئے اور اپنے مفوض کو بھول گئے۔ایک ہفتہ کے بعد حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ ( جو اُن ایام میں میاں محمود اور ہنوز بچہ ہی تھے) کچھ لفافے اور کارڈ لئے دوڑتے ہوئے آئے کہ ابا ہم نے کوڑے کے ڈھیر سے خط نکالے ہیں۔آپ نے دیکھا تو وہی خطوط تھے جن میں بعض رجسٹر ڈ خط بھی تھے اور آپ ان کے جواب کے منتظر تھے۔حامد علی کو بلوایا اور خط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا ہی کہا حامد علی ! تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے۔ذرا فکر سے کام کیا کرو۔“ 66