سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 98 of 665

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 98

سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۹۸ حصّہ اوّل حضرت مسیح موعود کے عفو و در گزر پر ربانی شہادت حضرت مسیح موعود کے اس خلق کو واقعات کی روشنی میں بیان کرنے سے پہلے یہ بتادینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کے اس خُلق عظیم کے متعلق ربانی شہادت بھی موجود ہے یعنی خدا تعالیٰ کی اس وحی میں جو آپ پر نازل ہوئی آپ کے اس خلق کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کر کے فرمایا تَلَطَّفْ بِالنَّاسِ وَتَرَحْمُ عَلَيْهِمْ ، یعنی تو لوگوں کے ساتھ رحم اور لطف کے ، ساتھ پیش آ۔اور فرمایا یا اَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْكَ “ اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی ہے۔” وَمَا اَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِینَ “ اور ہم نے تجھ کو تمام دنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔غرض بہت سے الہامات میں آپ کے اس خلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن اگر واقعات کی روشنی میں یہ صداقت ظاہر نہیں ہوتی تو الہامات بجائے خود ایک دعوی ہوتے۔ان الہامات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی میں ایسے واقعات اور حالات پیش آنے والے تھے کہ آپ کے اس خلق کا ظہور ہوگا۔اور وہ ہوا چنانچہ آپ کی زندگی کے بہت سے واقعات اس کی زبردست شہادت ہیں کہ دنیا کے معاملات میں آپ کو کسی پر غصہ نہ آتا اور آپ اپنے خطا کاروں کو موقع اورمحل کے لحاظ سے ہمیشہ معاف کر دیتے تھے۔آپ نے بے محل اس خلق کا کبھی استعمال نہیں کیا۔اگر آپ کسی پر غصہ اور خفا ہوئے تو وہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول علیا ہے اور اس کی کتاب کے لئے غیرت کا مقام ہوتا تھا نہ کچھ اور۔کیونکہ غیرت اور حمیت کے احساسات کو زندہ رکھنا اور نشونما دینا بھی ایک خلق عظیم ہے۔اب میں واقعات کی روشنی میں اس خلق کو دکھاؤں گا جس کو دوسرے الفاظ میں آپ کے اخلاقی معجزات کہتا ہوں۔آپ کے عفو و درگزر کے دوجدا گانہ مقامات آپ کے عفو و درگزر کے دو جدا جدا مقامات میں دکھانا چاہتا ہوں۔دوستوں سے ، دشمنوں سے۔اولاً میں وہ واقعات پیش کروں گا جو آپ کے خدام اور دوستوں سے متعلق ہیں اور پھر آپ کے اس سلوک کا ذکر کروں گا جو آپ اپنے دشمنوں سے کرتے تھے۔وَ بِاللهِ التَّوفيق۔