سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 95
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۹۵ نوع کے شرک سے ملوث نہ کیا انہیں کو خطرات عذاب سے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں یعنی ان کا قول اور فعل اور حال سب خدا کے لئے ہو گیا۔ایمان بھی خالصاً خدا پر لائے اور توحید فی ذات اللہ اور توحید فی صفات اللہ کا درجہ پایا۔اور پھر اپنی اخلاقی قوتوں کو بھی خدا کی راہ پر خرچ کیا یعنی توحید فی تبعیت اخلاق اللہ اختیار کی اور یہ تو حید فی تبعیت اخلاق اللہ اس لئے تو حید ہے کہ اس سے اپنی صفات سے فتالا زم آتی ہے۔اور پھر تو حید آخری جو تو حید حالی ہے یہ ہے جو نفس کو اخلاق رذیلہ اور ہر ایک خواہش ماسوی اللہ سے پاک کر کے انس اور شوق الہی میں مستغرق کریں۔یہ اس لئے تو حید ہے جو اس میں فنا اپنی ذات سے لازم آتی ہے کیونکہ بکلی تزکیہ نفس کا تبہی ہوتا ہے جب نفس ہی درمیان میں نہ رہے۔صیقل زدم آن قدر کہ آئینہ نماند۔یہ توحید بوجہ کامل دعا اور تضرع سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ اپنے وجود اور اپنی خواہشوں سے بکلی منقطع ہو جانا وضع عادت انسان کے برخلاف ہے اس لئے محض اپنے علم اور زور سے اس مہم کو فتح کرنا نہایت درجہ مشکل ہے اور عبودیت خالص بجز اس توحید کے ممکن نہیں اسی لئے اس توحید کے حاصل کرنے کے لئے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا ہے۔کیونکہ يجر فضل الہی کے یہ تو حید حاصل نہیں ہو سکتی۔اب خلاصہ یہ ہے کہ تو حید تین قسم کی ہے ایک توحید علمی کہ جو صحیح عقائد سے حاصل ہوتی ہے۔دوسری توحید عملی کہ جو قومی اخلاقی کو خدا کے راستہ میں محو کرنے سے یعنی فنافی اخلاق اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔تیسری تو حید حالی جو اپنے ہی نفس کا حال اچھا بنانے سے حاصل ہوتی ہے یعنی نفس کو کمال تزکیہ کے مرتبہ تک پہنچانا اور غیر اللہ سے صحن قلب کو بالکل خالی کرنا اور نابود اور بے نمود ہو جانا یہ تو حید بوجہ کامل تب میسر آتی ہے کہ جب جذ بہ الہی انسان کو پکڑے اور بالکل اپنے نفس سے نابود کر دے اور بجر فضل الہی کے نہ یہ علم سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ عمل سے اس کے لئے عابدین مخلصین کی زبان پر نعرہ حصّہ اوّل