سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 89
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا ۸۹ حصہ اول ہیں۔قرآن مجید ہی نے نیات اور مرکز قوی اور اعصاب افعال کو صرف کرنے اور پاک رکھنے کا گر بتایا ہے اور اس کی ابتدا نیت سے ہوتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود نے صدور اخلاق کے لئے پہلی چیز نیت بتائی ہے اور اس کے لئے یہ قرار دیا کہ چونکہ انسان کی اصل غرض اتصال بالمبدء ہے لہذا وہ اپنے اخلاق کو اس نیت کا تابع کرے چنانچہ فرماتے ہیں۔اخلاق فاضلہ کی ورزش سے یہ غرض ہے کہ وہ اتصال بالمبدء کے لئے ذریعہ ہوں یعنی ایسے طور سے استعمال میں ہوں کہ جس سے انسان اپنی ذات سے بالکل محوہو کر اتصال بالمبدء حاصل کرے اور وہ طریق بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ انسان اپنے اخلاق کو محض اس نیت سے استعمال کرے جو وہ خدا کے اخلاق کے تابع ہو جائیں اور جیسے سایہ اپنے وجود میں کچھ چیز ہی نہیں بلکہ وہ اصل سے ہی پیدا ہوتا ہے اور اصل کی ہی متابعت میں محو ہوتا ہے ویسا ہی سالک کے لئے لازم ہے کہ اس کو اپنی ذات میں نفی اخلاق کا درجہ حاصل ہو یعنی ایسا ہو کہ اس کے لئے کوئی بھی صفت نہیں۔نہ اس میں رحم کی صفت ہے نہ عفو کی نہ قہر کی نہ لطف کی اور ان صفتوں کو اس میں پیدا کرنے والا محض اخلاق الہی ہوں اور یہ اخلاق اسی طور سے اس سے صادر ہوں کہ جن سے تو حید فعلی پیدا ہوتی ہے اور توحید فعلی اخلاق کی تب ہی پیدا ہوتی ہے کہ جب اخلاق انسان کے به تبعیت اخلاق اپنے خالق کے صادر ہوں اور خالق کے تمام اخلاق میں حقیقی نیکی بھری ہوئی ہے جو حق اور حکمت پر مبنی ہے دنیا میں صرف اس کا لطف ہی نہیں پا یا جا تا بلکہ قہر بھی پایا جاتا ہے لیکن خالق کا مقصود بالذات نہ لطف ہے نہ قہر بلکہ حقیقی نیکی مقصود بالذات ہے اور لطف اور قہر اس کے لباس ہیں اور جس طرح تبدیل لباس سے صاحب لباس کی ذات میں کوئی فرق نہیں آتا اسی طرح تبادل لطف اور قہر سے حقیقی نیکی میں کچھ تبدیلی واقع نہیں ہوتی چونکہ خدا اپنے بندوں سے حقیقی نیکی بجالاتا ہے اس لئے وہ شخص جو تو حید فعلی کے حصول کا خواہاں ہو اس کو سمجھنا چاہیے کہ یہ تو حید فَنَا فِی اخْلَاقِ اللہ سے حاصل ہوتی