سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 85
سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۸۵ حصّہ اوّل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصول حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصول اس بارہ میں وہی ہے جو انبیاء علیہم السلام نے ہمیشہ پیش کیا ہے۔آپ اس بارہ میں کسی فلسفی کے مقلد اور معتقد نہیں بلکہ انبیاء علیہم السلام کے طریق وتعلیم کے پیرو ہیں اور خود خدا تعالیٰ سے آپ نے اس راہ مستقیم کو براہ راست بھی حاصل کیا۔جس طرح پر انبیاء علیہم السلام اور فلاسفروں کے ایمان میں فرق ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے فلسفہ اخلاق میں فرق ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گناہ کو انسانی فطرت کا خاصہ یا جز وقرار نہیں دیا جیسا کہ غلطی سے عیسائیوں نے سمجھ رکھا ہے۔اور نہ گناہ کو کوئی ایسی چیز قرار دیا جو قطعاً دور ہی نہ ہوسکتی ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی صفات غَافِرُ الذَّنْبِ اور قَابِلُ التَّوبِ کو پیش کر کے بدلائل قو یہ ثابت کیا ہے کہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔مجھ کو یہاں یہ بحث نہیں کرنی ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اخلاق کو ایک طبعی قوت قرار دیا ہے اور اس قوت کا جائز اور ناجائز استعمال ہی اس کو بد اخلاقی یا خوش اخلاقی بنا دیتا ہے۔اور یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو باہر سے آتی ہے بلکہ جیسے تلوار کو صیقل کرنے سے اس کی چمک اور تیزی اندر ہی سے پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح طبعی قوتوں کی تعدیل و ترتیب سے اخلاق فاضلہ پیدا ہوتے ہیں۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جلسہ دھرم مہوتسو والا مضمون ( اسلامی اصول کی فلاسفی ) خوب روشنی ڈالتا ہے۔غرض حضرت مسیح موعود نے فلسفہ اخلاق میں ارسطو یا غزالی کا اتباع نہیں کیا بلکہ آپ نے انبیاء علیہم السلام کے طریق کو اختیار کیا اور خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلیم پا کر اخلاقی تعلیم کے وہ اصول پیش کئے جو قرآن مجید نے تعلیم کئے ہیں۔چونکہ اس مقام پر مجھ کو اخلاقیات کی تقسیم کر کے ہر ایک خلق کے متعلق تفصیلی بحث نہیں کرنی ہے بلکہ مختصر طور پر حضرت مسیح موعود کے فلسفہ اخلاق کے امتیاز کو دکھانا ہے اس واسطے میں ان امور کو بیان کروں گا جو آپ کے فلسفہ میں خصوصیت رکھتے ہیں۔