سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 83
سیرت حضرت مسیح موعود علیہا السلام ۸۳ حصّہ اوّل مال یا عزت کو فائدہ پہنچا سکے۔یا اس کے جلال یا عزت ظاہر کرنے کا ارداہ کر سکے۔یا اگر کسی نے اس پر کوئی ظلم کیا تھا تو جس سزا کا وہ ظالم مستحق تھا اس سے درگذر کر سکے اور اس طرح اس کو دکھ اور عذاب بدنی اور تاوان مالی سے محفوظ رہنے کا فائدہ پہنچا سکے یا اس کو ایسی سزادے سکے جو حقیقت میں اس کیلئے سراسر رحمت ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰صفحه ۳۴۰،۳۳۹) یہ ہے وہ جامع تقسیم اخلاق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے۔غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی تقسیم اور اس تقسیم کا مقابلہ کرو۔بالکل واضح اور بین فرق نمایاں ہے۔امام غزالی صاحب اس تقسیم و تحدید میں ابن مسکویہ کی کتاب تہذیب الاخلاق کے پیرو ہیں اور حضرت مسیح موعود اخلاق کی تقسیم و تحدید میں قرآن مجید کے متبع ہیں۔آپ قرآن مجید کی شان بلند اور نبی کریم ﷺ کی اعجازی تعلیم کا جلال ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ جلسہ مذاہب کی اس تقریر کے پڑھنے سے ظاہر ہے کہ آپ نے یہ سب کچھ قرآن مجید ہی سے استنباط کر کے دکھایا ہے۔فلسفه اخلاق میں نہایت باریک بحث فلسفہ اخلاق میں ایک نہایت لطیف اور دقیق بحث یہ آتی ہے کہ اخلاق میں اصلاح وفساد کی قابلیت ہے یا نہیں۔امام غزالی نے اخلاق کی تقسیم و تحدید کے بعد یہی بحث کی ہے اور اس میں قد مائے یونان کے مختلف سکول آف تھاٹس کا ذکر کیا ہے اور انہیں کے اقوال اور اصولوں کی پیروی کر کے ارسطو کی رائے اختیار کی ہے۔چونکہ اس اہم اور نازک بحث میں مجھ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرہ امتیاز دکھانا ہے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اولاً الغزالی سے اس حصہ کو نقل کروں جو اس بحث کے متعلق ہے۔چنانچہ مولا ناشبلی فرماتے ہیں۔امام صاحب نے اس تحدید و تقسیم کے بعد اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ اخلاق میں اصلاح وفساد کی قابلیت ہے یا نہیں؟ قد مائے یونان اس بات کے قائل تھے کہ انسان بالطبع شریر اور بداخلاق پیدا ہوا