سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 41 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 41

41 آپ کو چھتی تھی۔مسکرا کر فرمایا اور ہو چند روز ہوئے محمود نے میری جیب میں ڈالی تھی اور کہا تھا اسے نکالنا نہیں میں اس سے کھیلوں گا۔غرض لباس سے آپ کو دل چسپی نہیں بے شک ایک دنیا پرست حقیقت ناشناس ظاہر میں اچھا لباس دیکھ کر اس کنہ میں پے نہیں لے جاسکتا اور قریب ہے کہ وہ اپنے نفس پر قیاس کر کے کہے کہ آپ کو اچھے لباس سے تعلق ہے۔مگر رات دن کے پاس بیٹھنے والے اس بے التفاتی کی حقیقت کو خوب سمجھتے ہیں۔ایک روز فرمایا کہ ہم تو اپنے ہاں کے کاتے اور بنائے ہوئے کپڑے پہنا کرتے تھے اب خدا تعالٰی کی مرضی سے یہ کپڑے لوگ لے آتے ہیں ہمیں تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ان میں اور ان میں کوئی تفاوت نظر نہیں آتا۔آپ کے مزاج میں وہ تواضع اور انکسار اور ہضم نفس ہے کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں زمین پر آپ بیٹھے ہوں اور لوگ فرش پر یا اونچے بیٹھے ہوں آپ کا قلب مبارک ان باتوں کو محسوس بھی نہیں کرتا۔چار برس کا عرصہ گذرتا ہے کہ آپ کے گھر کے لوگ لدھیانہ گئے ہوئے تھے جون کا مہینہ تھا اور اندر مکان نیا نیا بنا تھا میں دوپہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر لیٹ گیا حضرت ٹہل رہے تھے میں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔میں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا آپ نے بڑی محبت سے پوچھا آپ کیوں اٹھے ہیں میں نے عرض کیا آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سوئے رہوں مسکرا کر فرمایا میں تو آپ کا پہرا دے رہا تھا۔لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔باہر مسجد مبارک میں آپ کی نشست کی کوئی خاص وضع نہیں ہوتی ایک اجنبی آدمی آپ کو کسی خاص امتیاز کی معرفت پیچان نہیں سکتا۔آپ ہمیشہ دائیں صف میں ایک کونے میں مسجد کے اس طرح مجتمع ہو کر بیٹھتے ہیں جیسے کوئی فکر کے دریا میں خوب سمٹ کر تیرتا ہے میں جو اکثر محراب میں بیٹھتا ہوں اور اس لئے داخلی