سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 36
36 وقار اور تحمل سے بیٹھے سن رہے ہیں زبان سے یا اشارہ سے اس کو کہتے نہیں کہ بس اب جاؤ دوا پوچھ لی اب کیا کام ہے ہمارا وقت ضائع ہوتا ہے وہ خود ہی گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوتی اور مکان کو اپنی ہوا سے پاک کرتی ہے۔ایک دفعہ بہت سی گنواری عورتیں بچوں کو لے کر دکھانے آئیں اتنے میں اندر سے بھی چند خدمت گار عورتیں شربت شیرہ کے لئے برتن ہاتھوں میں لئے آنکلیں۔اور آپ کو دینی۔ضرورت کے لئے ایک بڑا اہم مضمون لکھنا تھا اور جلد لکھتا تھا میں بھی اتفاقاً جا نکلا کیا دیکھتا ہوں حضرت کمر بستہ اور مستعد کھڑے ہیں جیسے کوئی یورپین اپنی دیوی ڈیوٹی پر چست اور ہوشیار کھڑا ہوتا ہے اور پانچ چھ صندوق کھول رکھے ہیں اور چھوٹی چھوٹی شیشیوں اور بوتلوں میں سے کسی کو کچھ اور کسی کو کوئی عرق دے رہے ہیں اور کوئی تین گھنٹے تک یہی بازار لگا رہا اور ہسپتال جاری رہا فراغت کے بعد میں نے عرض کیا حضرت، یہ تو بڑی زحمت کا کام ہے اور اس طرح بہت سا قیمتی وقت ضائع جاتا ہے۔اللہ اللہ کس نشاط اور طمانیت سے مجھے جواب دیتے ہیں کہ یہ بھی تو ویسا ہی دینی کام ہے یہ مسکین لوگ ہیں یہاں کوئی ہسپتال نہیں۔میں ان لوگوں کی خاطر ہر طرح کی انگریزی اور یونانی دوائیں منگوا رکھا کرتا ہوں جو وقت پر کام آجاتی ہیں اور فرمایا یہ بڑا ثواب کا کام ہے مومن کو ان کاموں میں سست اور بے پروا نہ ہونا چاہئے۔میں نے بچوں کا ذکر کیا ہے عام خدمت گار عورتوں کی نسبت بھی آپ کا یہی رویہ ہے کئی کئی دفعہ ایک آتی اور مطلوب چیز مانگتی ہے اور پھر پھر اس چیز کو مانگتی ہے ایک دفعہ بھی آپ نہیں فرماتے کہ کمبخت کیوں دق کرتی ہے جو کچھ لیتا ہے ایک ہی دفعہ کیوں نہیں لے لیتی۔بارہا میں نے دیکھا ہے اپنے اور دوسرے بچے آپ کی چارپائی پر بیٹھے ہیں اور آپ کو مضطر کر کے پائینتی پر بٹھا دیا ہے اور اپنے بچپنے کی بولی میں مینڈک اور کوے اور چڑیا کی کہانیاں سنا رہے ہیں اور گھنٹوں سنائے جا رہے ہیں اور حضرت ہیں کہ بڑے مزے سے سنے جا رہے ہیں گویا کوئی مثنوی ملائے روم سنا رہا ہے۔حضرت