سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 56
56 الگ ہو گئے کہ گویا کوئی چیز تھی ہی نہیں اور جب سے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ کوئی لڑکی تھی۔مصالحت اور مسالمت خدا کی قضاء و قدر سے بجز منجانب اللہ لوگوں کے ممکن نہیں۔کوئی نوکر کو کتنا بڑا نقصان کر دے آپ معاف کر دیتے اور معمولی چشم نمائی بھی نہیں کرتے حامد علی کو کچھ لفافے اور کارڈ ڈاک خانہ میں ڈالنے کو دیئے فراموش کار حامد علی کسی اور کام میں مصروف ہو گیا اور اپنے مفوض کام کو بھول گیا۔ایک ہفتہ کے بعد محمود جو ہنوز بچہ تھا کچھ لفافے اور کارڈ لئے دوڑا آیا کہ ایا ہم نے کوڑے کے ڈھیر سے خط نکالے ہیں آپ نے دیکھا تو وہی خط تھے جن میں بعض رجسٹرڈ خط تھے اور آپ ان کے جواب کے منتظر تھے حامد علی کو بلوایا اور خط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا ہی کہا ”حامد علی تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے فکر سے کام کیا کرو۔ایک ہی چیز ہے جو آپ کو متاثر کرتی اور جنبش میں لاتی اور حد سے زیادہ غصہ دلاتی ہے۔وہ ہے ہتک حرمات اللہ اور اہانت شعائر الله - فرمایا ” میری جائیداد کا تباہ ہونا اور میرے بچوں کا آنکھوں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے ہونا مجھ پر آسان ہے یہ نسبت دین کے ہتک اور استخفاف کے دیکھنے اور اس پر صبر کرنے کے “۔جن دنوں - میں وہ موذی اور خبیث کتاب " امہات المومنین " جس میں بجز دل آزاری کے اور کوئی معقول بات نہیں چھپ کر آئی ہے اس قدر صدمہ اس کے دیکھنے سے آپ کو ہوا کہ زبانی فرمایا کہ ”ہمارا آرام تلخ ہو گیا ہے۔" یہ اسی صدمہ اور توجہ الی اللہ کا نتیجہ ہے کہ خدا تعالٰی نے اس باطل عظیم اور شرک جسیم ( مسیح کی الوہیت اور کفارہ) کے استیصال کے لئے وہ حربہ آپ کے ہاتھ میں دیا یعنی مرہم عیسی اور مسیح کی قبر کا نشان کشمیر میں آپ کو ملا- نزدیک ہے دور نہیں کہ مسیح کی قبر اس باطل کے پرستاروں