سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 32 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 32

32 رکھنے والے انسانوں کے سوا کس کا دل گردن ہے کہ ایسے حالات پر قناعت کر سکے مجھے یاد ہے کہ حضرت لکھ رہے تھے ایک خادمہ کھانا لائی اور حضرت کے سامنے رکھ دیا اور عرض کیا کھانا حاضر ہے فرمایا خوب کیا مجھے بھوک لگ رہی تھی اور میں آواز دینے کو تھا وہ چلی گئی اور آپ پھر لکھنے میں مصروف ہو گئے اتنے میں کتا آیا اور بڑی فراغت سے سامنے بیٹھ کر کھانا کھایا اور برتنوں کو بھی خوب صاف کیا اور بڑے سکون اور وقار سے چل دیا۔اللہ اللہ ان جانوروں کو بھی کیا عرفان بخشا گیا ہے۔وہ کتا اگر چہ رکھا ہوا اور سدھا ہوا نہ تھا مگر خدا معلوم اسے کہاں سے یہ یقین ہو گیا اور بجالیقین ہو گیا کہ یہ پاک وجود بے شر اور بے ضرر وجود ہے اور یہ وہ ہے جس نے کبھی چیونٹی کو بھی پاؤں تلے نہیں مسلا اور جس کا ہاتھ کبھی دشمن پر بھی نہیں اٹھا۔غرض ایک عرصہ کے بعد ہاں ظہر کی اذان ہوئی تو آپ کو پھر کھانا یاد آیا۔آواز دی خادمہ دوڑی آئی اور عرض کیا کہ میں تو مدت ہوئی کھانا آپ کے آگے رکھ کر آپ کو اطلاع کر آئی تھی اس پر آپ نے مسکرا کر فرمایا اچھا تو اب شام کو ہی کھائیں گے۔آپ کے حلم اور طرز تعلیم اور قوت قرسیہ کی ایک بات مجھے یاد آئی ہے دو سال کی بات ہے تقاضائے سن اور عدم علم کی وجہ سے اندر کچھ دن کہانی کہنے اور سننے کا چسکا پڑ گیا۔آدھی رات گئے تک سادہ اور معصوم ہے اور پاک دل بہلانے والے قصے ہو رہے ہیں اور اس میں عادتاً ایسا استغراق ہوا کہ گویا وہ بڑے کام کی باتیں ہیں۔حضرت کو معلوم ہوا منہ سے کسی کو کچھ نہ کہا۔ایک شب سب کو جمع کر کے کہا آؤ آج ہم تمہیں اپنی کہانی سنائیں۔ایسی خدا لگتی اور خوف خدا دلانے والی اور کام کی باتیں سنائیں کہ سب عورتیں گویا ہوتی تھیں اور جاگ اٹھیں سب نے توبہ کی اور اقرار کیا کہ وہ صریح بھول میں تھیں اور اس کے بعد وہ سب داستانیں انسانہ خواب کی طرح یادوں ہی سے مٹ گئیں۔ایسے موقعہ پر ایک تند خو مصلح جو کارروائی کرتا اور بے فائدہ اور بے نتیجہ حرکت کرتا ہے کون نہیں جانتا۔ممکن ہے کہ ایک بد مزاج -