سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 57 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 57

57 کے گھر گھر میں ماتم ڈالے اور مسلمانوں کے دل ٹھنڈے ہوں اور اس رنج کو بھول جائیں جو اس ناپاک کتاب سے انہیں پہنچا۔آپ کے تعلقات غیر قوموں سے ایسے ہیں کہ اس سے بہتر ممکن نہیں ہر ایک کی بہتری چاہتے ہیں خواہ کسی مذہب کا ہو۔کافہ بنی نوع کی بہبود آپ کا قبلہ ہمت اور نصب مین فرض ہے۔قادیان کے ہندو ہر ایک مصیبت کے وقت آپ کے وجود میں امین اور مفید صلاح کار پاتے ہیں۔مذہب کے لحاظ سے بعض یہاں کے ہندو آریہ اور اسلام کے مخالف ہیں اور حضرت کو عظیم الشان اور پختہ مسلمان تسلیم کرتے ہیں اور مذاہب باطلہ کی بیخ کنی کرنے والا دل سے یقین کرتے ہیں مگر حضرت کوئی دوا بتائیں اس پر ایک رشی کی بات سے کم تریقین نہیں رکھتے۔ہمیشہ اپنے خدام کو تقریر و تحریر میں یہی نصیحت کرتے اور اس پر بڑا زور دیتے ہیں کہ کسی جاندار کی حق تلفی نہ کرو اور تمہاری زبانوں اور کاموں میں فریب اور ایذا نہ ہو بادشاه وقت (گورنمنٹ برطانیہ) سے جو آپ کے پاک اور بچے تعلقات ہیں وہ آپ کی کتابوں اور آئے دن کے اشتہاروں سے صاف ظاہر ہیں۔میں نے دس برس کے عرصہ میں خلوت و جلوت میں کبھی نہیں سنا کہ کبھی اشارہ یا کنایہ یا صراحت سے کوئی کمہ برا گورنمنٹ یا گورنمنٹ کے کسی آئینشل کی نسبت آپ کے منہ سے نکلا ہو۔ہزاروں روپے خرچ کر کے عربی فارسی میں آپ نے رسائل تالیف کئے اور بلاد شام و عرب و افغانستان وغیرہ میں پھیلائے جن میں سرکار انگریزی کی اعلیٰ درجہ کی حمایت ک ہے قوموں کو ایسی حکومت کے ظل عاطفت کے نیچے آنے کی بہت ترغیب دی ہے۔برادران چونکہ اور کام بہت ہیں اب بالفعل اتنے پر بس کرتا ہوں اگر خدا تعالیٰ نے نیا علم بخشا اور قلم پکڑنے کی توفیق دی تو پھر اس مضمون پر لکھوں گا۔خدا