سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 43
43 اسی طرح ایک دفعہ ایک شخص جو دنیا کے فقیروں اور سجادہ نشینوں کا شیفتہ اور خو کر وہ تھا ہماری مسجد میں آیا۔لوگوں کو آزادی سے آپ سے گفتگو کرتے دیکھ کر حیران ہو گیا آپ سے کہا کہ آپ کی مسجد میں ادب نہیں لوگ بے محابا بات چیت آپ سے کرتے ہیں آپ نے فرمایا میرا یہ مسلک نہیں کہ میں ایسا تند خو اور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور میں بہت بننے سے سخت نفرت رکھتا ہوں میں تو بت پرستی کے رد کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ میں خود بت بنوں اور لوگ میری پوجا کریں۔اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ میں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا۔میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کوئی بت پرست اور خبیث نہیں۔متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے؟ آپ اپنے خدام کو بڑے ادب اور احترام سے پکارتے ہیں اور حاضر و غائب ہر ایک کا نام ادب سے لیتے ہیں۔میں نے بارہا سنا ہے اندر اپنی زوجہ محترمہ سے آپ گفتگو کر رہے ہیں اور اس اثناء میں کسی خادم کا نام زبان پر آگیا ہے تو بڑے ادب سے لیا ہے جیسے سامنے لیا کرتے ہیں۔کبھی تو کر کے کسی کو خطاب نہیں کرتے تحریروں میں جیسا آپ کا عام رویہ ہے "حضرت اخویم مولوی صاحب “ ” اور اخویم " حبي في الله مولوی صاحب اسی طرح تقریر میں بھی فرماتے ہیں حضرت مولوی صاحب یوں فرماتے تھے۔میں نے اکثر فقرا اور پیروں کو دیکھا ہے وہ عار سمجھتے ہیں اور اپنے قدر کی کاپشن خیال کرتے ہیں اگر مرید کو عزت سے یاد کریں۔کیسر شاہ ایک رند بے باک فقیر تھا اس کا بیٹا کوئی ۲۴ یا ۲۵ برس کی عمر کا تھا سخت بے باک شراب خوار اور تمام قسم کی منہیات کا مرتکب تھا وہ سیالکوٹ میں آیا۔شیخ اللہ داد صاحب مرحوم محافظ دفتر جو شہر میں معزز اور اپنی ظاہری وجاہت کے سبب سے مانے ہوئے تھے بد قسمتی اور علم دین سے بے خبر ہونے کے سبب سے اس کے باپ کے مرید تھے۔وہ لڑکا آپ کے مکان میں اترا میں نے خود دیکھا کہ وہ شیخ صاحب سے :