سیرت مسیح موعود علیہ السلام

by Other Authors

Page 31 of 64

سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 31

31 آنکھ اور کان ہر دفعہ میرے ایمان اور عرفان کو بڑھانے والی بات ہی لائے اتنے دراز عرصہ میں میں نے کبھی بھی نہیں سنا کہ اندر تکرار ہو رہی ہے اور کسی شخص سے لین دین کے متعلق باز پرس ہو رہی ہے۔سبحان اللہ کیا سکون فا دل اور پاک فطرت ہے جس میں سوء ظن کا شیطان نشیمن بنا نہیں سکا۔اور کیا ہی قابل رشک بہشتی دل ہے جسے یہ آرام بخشا گیا ہے۔اور پھر کوئی نقصان اور حضرت عائد حال نہیں ظاہر ہے کہ اگر یہ اغماض اور اعتماد عام معاش اور معاد کی میزان میں کم وزن ہو یعنی نظام عالم اور خدا کی نگاہ میں مکروہ ہو تو کار خانہ درہم برہم ہو جانا چاہئے۔مگردن دانی رات چوگنی ترقی گواہ ہے کہ خدا ایسے ہی دلوں کو پیار کرتا ہے اگر کبھی کوئی خاص فرمائش کی ہے کہ وہ چیز ہمارے لئے تیار کر دو اور عین اس وقت کسی ضعف یا عارضہ کا مقتضا تھا کہ وہ چیز لازماً تیار ہی ہوتی اور اس کے انتظار میں کھانا بھی نہیں کھایا اور کبھی کبھی لکھنے یا توجہ الی اللہ سے نزول کیا ہے تو یاد آگیا ہے کہ کھانا کھانا ہے اور منتظر ہیں کہ وہ چیز آتی ہے آخر وقت اس کھانے کا گذر گیا ان شام کے کھانے کا وقت آگیا ہے اس پر بھی کوئی گرفت نہیں۔اور جو نرمی سے پوچھا ہے اور عذر کیا گیا ہے کہ دھیان نہیں رہا تو مسکرا کر الگ ہو گئے ہیں۔اللہ اللہ اوئی خدمت گار اور اندر کی عورتیں جو کچھ چاہتی ہیں پکاتی کھاتی ہیں اور ایسا تصرف ہے کہ گویا اپنا ہی گھر اور اثاث البہیت ہے۔اور حضرت کے کھانے کے متعلق کبھی ذہول اور تغافل بھی ہو جائے تو کوئی گرفت نہیں۔کبھی نرم لفظوں میں بھی یہ نہ کہا کہ دیکھو یہ کیا حال ہے تمہیں خوف خدا کرنا چاہیئے۔یہ باتیں ہیں جو یقین دلاتی ہیں کہ سرور عالم ﷺ کا فرمانا سچ ہے کہ میں اپنے رب کے ہاں سے کھاتا اور پیتا ہوں۔اور حضرت امام علیہ السلام بھی فرماتے ہیں من می زیم بومی خدائے کہ بامن ست پیغام اوست چون نفس روح پر ورم حقیقت میں اگر یہ سچ نہ ہو تو کون تاب لا سکتا ہے اور ان فوق العادت فطرت