سیرت مسیح موعود علیہ السلام — Page 30
30 ضعیف اور مطلوب بھی ضعیف نتیجہ یہی ہونا چاہئے کہ اسے کبھی قرار نہ آئے۔آج مادی دنیا کے آگے یہ باتیں نہیں ہیں اور وہ ایسے لوگوں کو بڑی فراخ حوصلگی سے نیم مجنون اور مخبط الحواس کا لقب دیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ وہ اس سائنس سے بے خبر ہیں اور ہوا پرستی نے خدا پرستی کے قومی اور جو اس تباہ کر دیئے ہیں۔الغرض حضرت کو ہر متنفس پر وثوق ہے اور بالبداہت ہر ایک کو سچا سمجھتے ہیں۔کیسی ہی خستہ حال اور گھناؤنی صورت و وضع کی کوئی عورت ہو جس کو دیکھ کر ایک بدظن اور اس عالم کا تیز حس یہ چاہے کہ اس کے آگے سے دور ہو جائے اور وہ بات کرے تو کان بند کرلے اور اس سے پہلے آنکھ پر اور ناک میں ہاتھ اور انگلی رکھ دے حضرت ہیں کہ گھنٹوں ایسی جمعیت اور قرار سے اس کی بات سنے جا رہے ہیں کہ گویا ایک عندلیب شیریں مقال چہچہا رہی ہے یا ایک طوطی عذب البیان ہے جو دلچسپ نقل لگا رہی ہے کیسی بے تکی اور بے معنی باتیں کوئی کرے کبھی ایک اشارہ تک نہیں کیا کہ تیری باتیں فضول محض اور ان کا سنتا اوقات کا خون کرنا ہے اور جو واقعہ سنایا گیا اس کی تکذیب نہیں کی جو سودا لائی ہے اس کی چگونگی کی نسبت باز پرس نہیں اور جو کچھ خرچ کیا اور جو کچھ واپس دیا ہے آنکھ بند کر کے لیا اور جیب میں ڈال لیا ہے۔گاؤں کے بہت ہی گمنام اور پست ہمت اور وضیع فطرت جولاہوں کے لڑکے اندر خدمت کرتے ہیں اور بیسیوں روپوں کے سودے لاتے اور با رہا لاہور جاتے اور ضروری اشیاء نرید لاتے ہیں کبھی گرفت نہیں سختی نہیں باز پرس نہیں خدا جانے کیا قلب ہے اور در حقیقت خدا ہی ان قلوب، مطہرہ کی حقیقت جانتا ہے جس نے خاص حکمت اور ارادہ سے انہیں پیدا کیا ہے اور کیا ہی سچ فرمایا ہے اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَہ میں نے خاص نور کی اور ڈھونڈ کی ہے آنکھ لگائی ہے کان لگائے ہیں اور ایسے اوقات میں ایک نکتہ چیں ریویو نویس کا دل و دماغ لے کر اس نظارہ کا تماشائی بنا ہوں۔مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ میری